پاکستان کی کوششوں کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

13

اسلام آباد،02اپریل  (اے پی پی):پاکستان نے مختلف فریقین کی جانب سے سخت بیانات سامنے آنے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی کوششوں پر امید کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی کوششوں کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ میں پیش کردہ پانچ نکاتی امن منصوبہ اور اسلام آباد کے چار فریقی مذاکرات کے سات نکات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کا پاکستان پر اعتماد اس کے ثالثی کردار کا اعتراف ہے جبکہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی اصولوں اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر مبنی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کی اور اس سے قبل ایران پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہمارا موقف اصولوں، انسانی چارٹرکے اصولوں اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم ہے۔ امریکی اور ایرانی وفود کے مذاکرات کےلئے پاکستان کے دورے کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان نے واضح کیا کہ ممکنہ مذاکرات کے وقت، ایجنڈا اور وفود کا تعین متعلقہ ممالک خود کریں گے۔ مذاکرات میں کسی اسرائیلی نمائندے کی شرکت سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم پاکستان امریکہ، یورپی شراکت داروں، او آئی سی اور جی سی سی ممالک سے بات کر رہا ہے جن میں سے کچھ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس نہایت مشکل سہولتی عمل میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باوجود ہماری کوششیں جاری رہیں گی، چیلنجز اور رکاوٹیں اپنی جگہ موجود ہوسکتی ہیں تاہم ہم سہولت کاری کی اپنی کوششوں اور بات چیت کے فروغ کےلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان ایران پر دباؤڈال رہا ہے اور کہا کہ پاکستان صرف بات چیت اور سفارت کاری کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے جن میں سے روزانہ دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ مثبت اعلان بات چیت، سفارت کاری اور اعتماد سازی کے اقدامات کی سمت میں ہماری اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بامعنی پیش رفت ہے جو آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان کہ ایران مذاکرات میں حصہ نہیں لے رہا، غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ترجمان نے میڈیا کو افغانستان اور بھارت میں جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کے حوالے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا یہ لوگ عادی جھوٹے ہیں اور اس صورتحال میں جب ہم بات چیت کی سہولت کاری کے ایک نازک اور حساس عمل سے گزر رہے ہیں اور یہ کہ ہمارے خطے میں کشیدگی اور عملی طور پر جنگ جیسی صورتحال موجود ہے، ایسی جھوٹی خبریں پھیلانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کونسل اور ملائیشیا سمیت دیگر ممالک نے چار فریقی مذاکرات کے سات نکات اور نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کے دورہ بیجنگ کے دوران پیش کردہ پانچ نکاتی امن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تصدیق ریکارڈ کے مطابق بھارت میں ہر سال مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے تشدد (لنچنگ) کے تقریباً 100 واقعات پیش آتے ہیں تاہم مجرم ریاستی سرپرستی کے باعث عدالتی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ارومچی میں پاکستان-افغانستان مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے ایک قابل اعتماد عمل کی حمایت کےلئے اپنا وفد بھیجا ہے جس کا مقصد محفوظ پناہ گاہوں کے مسئلہ کا پائیدار حل تلاش کرنا اور افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شرکت ہمارے بنیادی خدشات کا اعادہ ہے تاہم حقیقی عمل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے جسے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات اور افغان وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آنے والے بیان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغان فریق نے جس ارادے کا اظہار کیا ہے، اس کی حمایت تحریری شکل میں ٹھوس، قابل تصدیق یقین دہانیوں کے ذریعے کرنی ہوگی کہ ان کی سرزمین سرحد پار دہشت گردی کےلئے استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی یقین دہانی 2021ء  میں دوحہ میں طالبان کی جانب سے تحریری صورت میں دی گئی تھی مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ آپریشن ”غضب للحق“ جاری ہے اور چند روز قبل بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں جبکہ مذاکرات کے باوجود اس آپریشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔