اسلام آباد، 11 مئی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے امور سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملک میں آئی ٹی شعبے کے فروغ، برآمدات بڑھانے اور ڈیجیٹل سہولیات کی توسیع کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے۔
وزیراعظم نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں آسان خدمت مراکز کے قیام کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آسان خدمت کی سہولیات کو صوبوں میں بھی شروع کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر حکومتوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 2024 میں 1.9 ملین سے بڑھ کر 2026 میں 5.10 ملین ہو گئی ہے جبکہ رواں مالی سال پاکستان سے 4.5 سے 4.6 ارب امریکی ڈالر کی آئی ٹی برآمدات متوقع ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حال ہی میں پاکستان میں 5 جی سروسز کے لیے نیلامی کی گئی جو 2016 کے بعد دنیا کی سب سے بڑی نیلامی تھی اور اس سے پاکستان کو 509 ملین امریکی ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے حوالے سے فروری 2026 میں انڈس اے آئی ویک کا انعقاد کیا گیا جس کے تحت 30 شہروں میں تقریبات منعقد ہوئیں جبکہ اس میں 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور 88 پولینز بنائے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں اور ہیلتھ یونٹس کو فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں فری انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹس کی فراہمی کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سید پور ماڈل ویلج اور فاطمہ جناح پارک میں ای لرننگ پاڈز نصب کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔











