اقوام متحدہ، 18 مئی (اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے مارخور محض تحفظِ ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ یہ ہمارا قومی جانور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پہاڑوں کا بادشاہ‘‘ کہلانے والا مارخور عزم، بقا اور شان و شوکت کی علامت ہے، جو چترال، کوہستان، کالام، گلگت بلتستان، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ باتیں اقوام متحدہ میں ’’مارخور اور پہاڑی حیاتیاتی تنوع: ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی کوششوں کا فروغ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ’’مارخور کے عالمی دن 2026‘‘ کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز کی جانب سے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے تعاون سے منعقدہ اس تقریب میں سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے حکام، ماحولیاتی ماہرین اور تحفظِ ماحولیات کے شراکت داروں نے شرکت کی تاکہ مارخور کو وسطی اور جنوبی ایشیا کی ایک نمائندہ نسل اور نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی علامت کے طور پر اجاگر کیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ایک ایسی نسل جو کبھی معدومی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل بحال ہوئی ہے، جو فعال تحفظی حکمتِ عملی، مقامی برادریوں کی شمولیت اور مضبوط سیاسی عزم کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہماری تحفظی حکمتِ عملی، جس میں CITES سے تسلیم شدہ پروگرام بھی شامل ہے، اس کامیابی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی مارخور کے انحصار والے ماحولیاتی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق درختوں کی حدِ افزائش میں تبدیلی اور طویل بارشوں کی کمی بلوط کے جنگلات، جو مارخور کی بنیادی خوراک ہیں، کو نئی بیماریوں اور نباتاتی نقصان سے دوچار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث برفانی چیتے جیسے بڑے شکاری جانور پاکستان کے بعض علاقوں میں مزید بلند پہاڑی مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال نے شکاری جانوروں کے قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے اور اب لنکس سمیت دیگر شکاری جانور آزادانہ گھومتے ہوئے مارخور کے بچوں کا زیادہ شکار کر رہے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ’’پہاڑوں کا بادشاہ‘‘ ہمیشہ قائم و دائم رہے۔انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی مستقل مبصر ڈاکٹر سوفی سینڈسٹروم جافے نے کہا کہ مارخور کا عالمی دن نہ صرف ایک منفرد نسل بلکہ ان پہاڑی ماحولیاتی نظاموں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے جن پر دنیا کے تقریباً نصف حیاتیاتی تنوع کے مراکز انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے مارخور کو ماحولیاتی صحت کا پیمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بحالی اس اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مقامی برادریوں کو بااختیار بنایا جائے، سائنسی رہنمائی میسر ہو اور سرحدوں سے بالاتر تعاون فروغ پائے تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مارخور کے عالمی دن کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور پہاڑی برادریوں اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کے فروغ کا مؤثر پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔











