اقوام متحدہ، 22 مئی ( اے پی پی):پاکستان نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دیرپا امن، استحکام اور مفاہمت کے لیے لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے متعلق بریفنگ کے دوران پاکستان کا بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے آئی سی سی کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 (2011) کے تحت پراسیکیوٹر کی 31ویں رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے رپورٹ میں بیان کردہ پیش رفت، بشمول تحقیقاتی سرگرمیوں، لیبیائی حکام کے ساتھ تعاون، اور متعلقہ بین الاقوامی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط کا نوٹس لیا۔ انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ مسٹر الہشری کی عدالت کے حوالے کیے جانے کے بعد ابتدائی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا، جو لیبیا کی صورتحال میں آئی سی سی کو کسی مشتبہ شخص کی پہلی حوالگی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ احتساب کی کوششوں کو لیبیا میں امن اور قومی مفاہمت کے وسیع تر مقصد کو تقویت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے یکسانیت، معروضیت، انصاف اور غیرانتخابی طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں ہے، تاہم پاکستان سنگین بین الاقوامی جرائم کے لیے قابلِ اعتماد اور غیرجانبدار احتساب کے مقصد کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کا یکساں اطلاق ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 پر عمل درآمد کے لیے آئی سی سی اور لیبیائی حکام کے درمیان تعمیری تعاون اہمیت کا حامل ہے، تاہم یہ تعاون لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور اس کے جائز تحفظات کے مکمل احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام احتسابی کوششوں میں قومی ملکیت اور صلاحیت سازی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
پاکستان نے عدالتی وحدت کے تحفظ، آئینی نگرانی کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کے فروغ، اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے لیبیا کی قیادت میں جاری تمام اقدامات کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔











