اسلام آباد، 21 مئی (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شہریوں کے تحفظ پر سالانہ مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرنے، اقوام کو زیرِ قبضہ رکھنے، اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کے حقِ جواب میں کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر مظلومیت کا نقاب اوڑھ کر کونسل میں آیا ہے لیکن دنیا اس کے اصل چہرے کو پہچانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت کے زور پر اقوام کو زیرِ قبضہ رکھتا ہے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور خطے میں جارحیت کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کوئی نظریاتی معاملہ نہیں بلکہ اس کی بھاری انسانی قیمت ہے۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے مالی معاونت اور سہولت کاری کے ذریعے پاکستان میں مساجد، بازاروں، اسکولوں اور گلیوں میں ہزاروں شہریوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان نے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں کے خلاف نہایت درست اور پیشہ ورانہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خلاف تھیں، نہ کہ افغان عوام یا شہری تنصیبات کے خلاف۔
انہوں نے طالبان حکومت کے الزامات کو منظم گمراہ کن مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف افغان دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال میں ناکامی پر مایوسی کا شکار ہے۔
کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نہ تو جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو چھپا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتا ہے کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو آج بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کو قتل، گرفتار اور بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ بنیادی آزادیوں کو کچلا جا رہا ہے۔
انہوں نے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا انتہا پسندی کے تحت اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے جبکہ مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور مسیحیوں کے خلاف امتیازی سلوک معمول بن چکا ہے۔
صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل حالت میں رکھنے کو بین الاقوامی قانون سے بھارت کی بے اعتنائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ریاست پاکستان کے کروڑوں عوام کے پانی، غذائی تحفظ اور روزگار کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیاں دے، اسے شہریوں کے تحفظ پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مکالمے، تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور خودمختار مساوات کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔











