اسلام آباد، 06 مئی (اے پی پی):سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں عوامی اہمیت کے متعدد امور پر غور کیا گیا جن میں احمد جاوید ولد عادل رشید کی ٹارگٹ کلنگ، خیبر پختونخوا میں ویزوں کی منسوخی کا سامنا کرنے والی افغان خواتین کے انسانی حقوق کے خدشات، صنفی بنیاد پر تشدد(جی بی وی) کے کیسز میں اصلاحات پر پیش رفت، ویزا کی شرح کو بہتر بنانے اور پاکستان میں خواتین و لڑکیوں کو درپیش چیلنجز کے بارے میں قرارداد نمبر 584 پر غور کیا گیا۔ بدھ کو وزارت انسانی حقوق نے کمیٹی کو صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح کو بہتر بنانے کے لیے کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیل دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سزا سنانے کی شرح جو کہ 2020ء سے پہلے تقریباً 4 فیصد تھی، اس میں 480 جی بی وی عدالتوں ، چھ اینٹی ریپ کرائسز سیلز (اے آر سی سیز) اور 2021ء کے بعد ایک مضبوط قانونی فریم ورک کے قیام سے نمایاں بہتری آئی ہے تاہم پنجاب میں سال 2025ء میں عصمت دری کے مقدمات میں سزا کی شرح 4 فیصد اور سندھ میں سب سے زیادہ 22 فیصد ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں بلوچستان میں 12 فیصد، آئی سی ٹی میں 6.9 فیصد اور کے پی کے میں 6 فیصد ہے۔ کمیٹی نے جنسی جرائم کے مقدمات میں تاخیر، متعین ٹائم لائنز کی کمی اور ڈیجیٹل ثبوت جمع کرنے میں درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا۔ فرانزک سائنسز میں استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چیئرپرسن نے بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر ٹرائل تک فوجداری انصاف کے سلسلے کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ چیئرپرسن نے وزارت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاسوں میں اس معاملے پر بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ لاہور میں احمد جاوید کی ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کمیٹی نے ایف آئی آر میں تضادات اور کیس کی نوعیت میں تبدیلیوں بشمول انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے اخراج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ 136 گولیاں چلنے سے ذاتی دشمنی کی بجائے دہشت گردی کے عناصر کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بتایا کہ عدالتی نظیروں کے مطابق شکایت کنندہ کی ایف آئی آر کی بنیاد پر کیس میں ردوبدل کیا گیا تھا اور متعلقہ دفعات اب بھی ضمنی چالان کے ذریعے بعد کے مراحل میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کریں۔ کمیٹی نے متاثرہ فرد کے والد کو بھی سنا اور امن و امان کی وسیع تر صورتحال پر وزارت داخلہ سے ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا۔ جڑانوالہ واقعہ پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے ذاتی عناد کے لیے مذہبی روایات کے غلط استعمال کو اجاگر کیا۔ چیئرپرسن نے تعلیم کے ذریعے بالخصوص سکولوں اور مدارس میں سماجی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔چیئرپرسن نے اسلام آباد میں اغواء کے بعد قتل ہونے والے حالیہ واقعے کا سخت نوٹس لیا جہاں مقتولہ کی لاش مردان سے برآمد ہوئی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر سیف سٹی ٹریکنگ اور لاش کی بازیابی تک 48 گھنٹوں کے اندر مکمل ٹائم لائن جمع کروائیں۔ قرارداد نمبر 584 پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے عالمی صنفی برابری کی رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی کو 148 ویں نمبر پر نوٹ کیا اور کارکردگی و ڈیٹا کے فرق دونوں پر روشنی ڈالی۔ وزارت انسانی حقوق نے اجلاس کو بتایا کہ اس نے وفاقی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 10 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سول سروسز میں خواتین کی شرکت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ چیئرپرسن فنکشنل کمیٹی نے قومی ترقی کے لیے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کی اہمیت اور مسلسل سماجی، اقتصادی اور ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان کا موقف تھا کہ افغانوں کو قومیت دی جانی چاہیے۔ چیئرپرسن نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے حکومتی پالیسی کی شقوں سے آگاہ کریں ۔ اجلاس تمام اہم امور پر تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر پونجو بھیل، سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر ایمل ولی خان اور سینیٹر عابد شیر علی نے شرکت کی۔











