اسلام آباد، 19 مئی (اے پی پی ): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے تین اہم بلوں کی منظوری دیدی ہے جبکہ مالیاتی نیٹنگ بل مزید مشاورت کے لئے مؤخرکردیا گیا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس منگل کویہاں چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود اور سینیٹر محمد عبدالقادر نے شرکت کی جبکہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے حکومتی بل’’ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل، 2026‘‘پر غور کیا۔کمیٹی کو پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے فرائض اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ سرکاری ملکیتی ادارہ ہے۔ کمیٹی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیاگیا اور بتایا گیا کہ بورڈ میں حکومت کے دو نامزد نمائندے شامل ہوں گے جبکہ باقی اراکین نجی شعبے سے لئے جائیں گے۔ تفصیلی غور و خوض اور بحث کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کو سینیٹ سے منظور کرنے کی سفارش کر دی ۔اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے مختلف سرکاری اداروں میں بورڈ ممبران اور چیف ایگزیکٹو افسران کی تقرریوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی تاخیر کو روکنے کے لئے مؤثر پالیسی فریم ورک وضع کیا جائے کیونکہ اس سے اداروں کی کارکردگی اور استعداد متاثر ہوتی ہے۔ کمیٹی نے مختلف محکموں اور اداروں میں بورڈ ممبران اورسی ای اوز کی خالی آسامیوں کی تفصیلات بھی طلب کیں جن میں یہ بھی شامل ہو کہ یہ عہدے کب سے خالی ہیں۔کمیٹی نےمالیاتی ذمہ داری اور قرضہ جات کی حد بندی (ترمیمی) بل، 2026پر بھی غور کیا اور متفقہ طور پر اسے سینیٹ سے منظور کرنے کی سفارش کر دی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈیبٹ) کی تقرری ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔اجلاس میں ’’کسٹمز (ترمیمی) ایکٹ، 1969‘‘پر غور کیا گیا۔ کمیٹی کو مجوزہ ترامیم پر شق وار بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ان ترامیم کا مقصد مالیاتی شقوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر کسٹمز (ترمیمی) ایکٹ، 2026 منظورکرنے کی سفارش کی۔ اجلاس میں مالیاتی انتظامات کی نیٹنگ بل 2026 پر بھی غور کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کے نمائندوں نے کمیٹی کو مالیاتی منڈیوں میں لین دین کے ہموار بہاؤ اور کارکردگی کو یقینی بنانے میں نیٹنگ سہولت کے فوائد سے آگاہ کیا۔ بحث کے بعد کمیٹی نے بل پر غور مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں کو مزید مشاورت کے لئے طلب کیا جائے۔











