اسلام آباد، 22 مئی(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے ایم ایل-1 کراچی تا روہڑی سیکشن کے نفاذی فریم ورک کا جائزہ لینے اور منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کے اقدامات پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور سیکریٹری ریلوے مظہر علی شاہ نے اجلاس کو ایم ایل-1 سے متعلق جاری کام اور ابتدائی انتظامات پر بریفنگ دی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور اے ڈی بی کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے وزارتِ ریلوے کو ہدایت دی کہ وہ اے ڈی بی اور اقتصادی امور ڈویژن کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے منصوبے کی دستاویزی کارروائی کو تیز کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس بات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں کہ ایم ایل-1 منصوبے کی سنگِ بنیاد تقریب رواں سال کے اندر منعقد ہو۔
احد چیمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال میں اے ڈی بی کی مالی معاونت حاصل کرنے کی خواہاں ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے دستاویزات اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وزارتِ ریلوے پلاننگ ڈویژن کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنائے تاکہ پی سی-1 اور دیگر لازمی تقاضے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے، شفافیت برقرار رکھنے اور تمام ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ایم ایل-1 کو ایک تاریخی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں مال برداری کے نظام کو بہتر بنانے اور ریلوے خدمات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی تا روہڑی سیکشن ابتدائی مرحلہ ہے اور اسے ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایم ایل-1 کے باقی حصوں کے لیے دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اور کراچی سے پشاور تک مکمل ایم ایل-1 منصوبے کے لیے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اقتصادی امور ڈویژن اور وزارتِ ریلوے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی دستاویزی عمل اور دیگر رسمی تقاضوں کو تیز کرنے میں معاونت فراہم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی بی پی آر ایف کنسلٹنٹ کی بروقت تقرری یقینی بنائے گا اور منصوبے کے جائزہ عمل کا دورانیہ کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا تاکہ اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل منصوبے پر جلد عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔











