بیجنگ، 25 مئی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیرِ اعظم لی چیانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں، پروٹوکولز اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔
دستخط ہونے والی دستاویزات تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق ہیں۔دستخط اور تبادلہ ہونے والی دستاویزات میں تعلیمی تعاون اور تبادلوں سے متعلق ایگزیکٹو پروگرام، خشک میوہ جات کے لیے معائنہ، قرنطینہ اور حفظانِ صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول، مکئی کے لیے نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول اور زرعی شعبے میں ترقیاتی تعاون کے فروغ سے متعلق مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جانوروں کی ویکسینز سے متعلق لیٹر آف ایکسچینج، اقتصادی ترقی کے شعبے میں تبادلوں اور تعاون کو مزید گہرا کرنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور فارن سروس اکیڈمی و چائنا فارن افیئرز یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سینٹرل کمیٹی کے پارٹی اسکول اور پاکستان نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت، سال 2026 کے لیے افرادی قوت کی ترقی کے تعاون پروگرام کے مشترکہ نفاذ سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور مطابقتی جانچ سے متعلق مفاہمتی یادداشت بھی دستخط شدہ دستاویزات میں شامل ہیں۔
پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور چائنا ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان مفاہمتی یادداشت، شنہوا نیوز ایجنسی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت، چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان مشترکہ دستاویزی فلم سازی میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور آزاد تجارت و کثیرالجہتی نظام کی حمایت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں ژجیانگ صوبے اور صوبہ پنجاب کے درمیان سسٹر صوبہ تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدہ بھی طے پایا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ان معاہدوں پر دستخط پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے اہم شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کریں گے جو دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔











