اقوام متحدہ، 13 مئی (اے پی پی): پاکستان نے اقوام متحدہ میں ویساک کے بین الاقوامی دن 2026 کی تقریب میں بدھ مت کے ساتھ اپنے گہرے اور تاریخی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ ممالک سے تعلق رکھنے والے راہب، اسکالرز اور زائرین سال بھر پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تاکہ ٹیکسلا، سوات اور تخت بھائی سمیت تاریخی بدھ مقامات کی زیارت کر سکیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورے نہ صرف مشترکہ روحانی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے بدھ پیروکاروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں موجود گرمجوشی، احترام اور دوستی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ سفیر عاصم نے بدھ مت کے ماننے والوں اور ویساک منانے والے تمام افراد کو دلی مبارکباد پیش کی اور اس تقریب کے انعقاد پر سری لنکا اور تھائی لینڈ کے مستقل مشنز کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویساک کا دن عالمی برادری کو بدھ کے حصولِ معرفت کے سفر اور ان کے ذہنی سکون، امن، ہمدردی اور محبت کے لازوال پیغام کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا تنازعات، تقسیم اور روحانی بے یقینی کا سامنا کر رہی ہے، بدھ کے پیغام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مستقل مندوب نے کہا کہ بدھ مت کا پاکستان کے ساتھ تعلق قدیم سرزمین گندھارا سے جڑا ہوا ہے، جہاں بدھ فکر، فن اور روحانیت نے فروغ پایا۔ انہوں نے کہا کہ بدھ گندھارا کا ورثہ آج بھی پاکستان کے سماجی و ثقافتی تشخص کا حصہ ہے اور ملک کے تکثیری اور روشن خیال نظریے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہی ورثہ بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی تقویت دیتا ہے، جن میں بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور امن کے لیے تعاون سے متعلق جنرل اسمبلی کی قرارداد بھی شامل ہے، جسے پاکستان اور فلپائن نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔
سفیر عاصم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بدھ مت ایک مشترکہ انسانی ورثہ ہے اور پاکستان بین الاقوامی امن، ہم آہنگی اور سکون کے لیے بدھ کے عالمگیر پیغام کے فروغ کے سلسلے میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔











