اسلام آباد جون ،17(اے پی پی) :قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت شروع ہو گیا، جس میں مالی سال کے وفاقی بجٹ پر جاری بحث دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اسپیکر نے مختلف پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے استعمال کیے گئے وقت کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دیں۔اسپیکر نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 36 ارکان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے مجموعی طور پر 7 گھنٹے 42 منٹ استعمال کیے ہیں جبکہ پارٹی کے پاس 8 گھنٹے 12 منٹ کا وقت باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 31 ارکان 10 گھنٹے 5 منٹ اظہارِ خیال کر چکے ہیں جو مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ 10 منٹ زیادہ ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے 10 ارکان 2 گھنٹے 51 منٹ بول چکے ہیں اور پارٹی 12 منٹ اضافی وقت استعمال کر چکی ہے۔
اسپیکر کے مطابق اپوزیشن بینچوں سے امیر ڈوگر سمیت 14 ارکان 12 گھنٹے 12 منٹ تک اظہارِ خیال کر چکے ہیں جو ان کے مقررہ وقت سے تقریباً 2 گھنٹے زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض جماعتیں اپنے مقررہ وقت سے زائد گفتگو کر چکی ہیں، جبکہ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مزید وقت لینا چاہیں تو حکومتی بینچوں سے وقت ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں اسپیکر نے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین سے درخواست کی کہ وہ اپنی جماعت کے دستیاب وقت میں سے دیگر جماعتوں کو وقت دینے پر غور کریں۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس وقت یہ شعبہ مختلف دباؤ اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور وزیرِاعظم کی ترجیحات میں زراعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں درست حکمتِ عملی کے ذریعے مختصر مدت میں، حتیٰ کہ چھ ماہ کے اندر بھی بہتری کے آثار سامنے آ سکتے ہیں۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی بہتری کے لیے بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ رابطے میں ہے، خصوصاً چین کے تجربات سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے، اور پاکستان بھی اسی طرز پر تعاون اور اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسانوں کی حالت بہتر بنائی جا سکے اور ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔











