اسپیکر قومی اسمبلی کا گیلری سکیورٹی اور پارلیمانی نظم و ضبط پر سخت مؤقف، قواعدِ کار پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت

2

اسلام آباد، 21 جون(اے پی پی ): قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی گیلریوں میں غیر مجاز افراد کی موجودگی اور پارلیمانی نظم و ضبط سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسمبلی کی سکیورٹی اور کارروائی کی سنجیدگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے ایوان میں اٹھائے گئے نکات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ بعض اوقات غیر مجاز افراد کی گیلریوں میں موجودگی سے ارکان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیلریاں بھی ایوان کا حصہ ہیں اور ان کی سکیورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ایوان کے اندر کی۔
اسپیکر نے کہا کہ مہمانوں کے داخلے کے لیے واضح اور محدود اجازت ہونی چاہیے اور کارڈز کے اجرا میں بھی باقاعدہ حد مقرر کی گئی تھی، جس پر دوبارہ عمل درآمد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر مجاز افراد کی موجودگی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی ۔انہوں نے حال ہی میں سارجنٹ ایٹ آرمز کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی غیر مجاز شخص گیلریوں یا لابی میں داخل ہوتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر معطلی (Suspension) بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اسپیکر نے ارکان کو قواعدِ کار 2007 کے تحت پارلیمانی ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی بھی تلقین کی اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ارکان کو چاہیے کہ وہ صرف ایوان کے کاروبار سے متعلق مواد کا مطالعہ کریں، اجلاس کے دوران مداخلت نہ کریں، اور جب کوئی رکن خطاب کر رہا ہو تو مکمل توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ارکان کو ہمیشہ چیئر سے مخاطب ہونا چاہیے اور اپنی نشستوں پر نظم و ضبط کے ساتھ موجود رہنا چاہیے۔ اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کی مؤثر اور بامقصد روانی کے لیے تمام ارکان کو قواعدِ کار کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔