امریکہ کے یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں امریکی سفارتخانہ کی جانب سے انٹرپرینیورشپ نمائش کا انعقاد

1

اسلام آباد، 19 جون (اے پی پی): پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشن آزادی کے سلسلے میں یو ایس ایجوکیشن فائونڈیشن اِن پاکستان (یو ایس اِی ایف پی) میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں فنکاروں، ڈیزائنرز، کاروباری شخصیات اور ثقافتی شعبےسے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات اور بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے کیلئے تخلیقی شعبےسے منسلک صنعتوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خُصوصی امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر اور پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر ایچ ایس وائی تھے جبکہ معروف براڈکاسٹر اور فلم ساز توثیق حیدر نے تقریب کی نظامت کی.

امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری فریڈم 250 مہم کے تحت منعقدہ تقریب میں تین نمایاں سرگرمیاں شامل تھیں، فریڈم 250 انٹرپرینیورشپ لیکچر جس کا مقصد امریکی کاروباری مہارت اور بہترین طریقۂ کار سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ آرٹس مارکیٹ پلیس میں پاکستان امریکہ ایلومنائی نیٹ ورک کے بیس سابق شرکاءَ کے فن پاروں اور تخلیقی کام کو پیش کیا گیا جبکہ فیشن رن وے شو میں امریکی ڈیزائن، ثقافت اور ٹیکسٹائل جدت کے ڈھائی سو سالہ سفر کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ فنونِ لطیفہ اقوام اور عوام کے درمیان پائیدار روابط قائم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ترین روابط میں سے ایک ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ کو پاکستانی ملبوسات اور تیار شدہ گارمنٹس کی برآمدات کی اوسط مالیت چار ارب ڈالر سالانہ سے زائد رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سے ملبوسات امریکی کپاس سے بنائے گئے تھے جبکہ پاکستان ہر سال تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کی امریکی کپاس اور دیگر خام ٹیکسٹائل مواد درآمد کرتا ہے۔

پاکستان دنیا میں ڈینم کپڑے اور ڈینم ملبوسات تیار کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور امریکہ میں فروخت ہونے والی جینز کی ایک بڑی تعداد کا سفر پاکستان ہی سے شروع ہوتا ہے جو اس حقیقت کی زبردست یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کےتعلقات دونوں ملکوں  کے عوام کی روزمرہ زندگیوں کا ایک  لازمی حصہ  ہیں۔

 ناظم الامور نیٹلی بیکر نے تخلیقی کاروباری سرگرمیوں کو معاشی مواقع اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تخلیقی صنعتیں ترقی اور معاشی نمو کو مہمیز دیتی ہیں، یہ 1776 سے ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنون اور ڈیزائن کے شعبے میں امریکی کامیابی صرف صلاحیت ہی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کا ثمر ہے جو تجربات، کاروباری سوچ اور نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔