پاکستان کا سلامتی کونسل میں غزہ کی انسانی ‎ صورتحال پر اظہارِ تشویش

0

نیویارک، 19 جون ( اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور تقریباً 20 لاکھ فلسطینی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، صرف نصف ہستال جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ بھوک، غذائی عدم تحفظ اور بیماریوں کے پھیلاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایک ملین سے زائد بچے بے دخلی، غذائی قلت اور تعلیم و صحت کی سہولیات سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔

‎پاکستان نے اسرائیل پر انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور امدادی سامان، تجارتی اشیا اور طبی انخلا کی بلا رکاوٹ اجازت دی جائے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ کے محاصرے کے خاتمے، انسانی امداد کو سیاسی شرائط سے آزاد رکھنے، امدادی کارکنوں کے تحفظ، اور یو این آر ڈبلیو اے کے کردار کی مکمل بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی 2026 کی ہنگامی اپیل کے لیے مطلوبہ فنڈز کا صرف 12 فیصد فراہم کیا گیا ہے، جسے فوری طور پر پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد، مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد، فوری تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل کا مطالبہ کیا۔

‎انہوں نے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے آبادکار تشدد اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔