امریکی آزادی کے 250 سال مکمل،اسلام آباد میں پروقار تقریب کا انعقاد

2

اسلام آباد،7جون  (اے پی پی):امریکہ کی آزادی کے250 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ’’امریکہ 250 ‘‘ کے زیرعنوان  اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے امریکا کی آزادی، جمہوریت، اختراع اور بین الاقوامی شراکت داری کے ڈھائی سو سالہ سفر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  منعقدہ تقریب میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ امریکی یومِ آزادی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ناظم الامور نیٹلی بیکر نے امریکا کے اعلانِ آزادی کی اہمیت اور حالیہ عرصہ کے دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں غیرمعمولی تبدیلی کا ذکر کیا۔ نیٹلی بیکر نے پاکستان کے مختلف علاقوں کے اپنے دوروں کا بھی ذکر کیا جن میں تقریباً دو دہائیوں بعد لاہور کے تاریخی بسنت پتنگ میلے کی بحالی میں شرکت بھی شامل ہے۔ انہوں نے سفارتکاری میں کھیلوں کے مؤثر کردار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کا اہم کردار ہے کیونکہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے مقابلوں میں استعمال ہونے والی فٹبالز پاکستان میں تیار کی جارہی ہیں۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ آزادی کی یہ تقریب نہ صرف امریکی تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کی یادگار تھی بلکہ اس نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور مستقبل میں مزید مضبوط شراکت داری کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ تقریب کا اختتام پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی، شراکت داری اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔   تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی اعتماد اور مستقبل میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں امریکہ کے یوم آزادی کی مناسبت سے آتشبازی بھی گئی جبکہ ایک ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام کیا گیا۔

تقریب میں حکومتی شخصیات، سیاسی رہنمائوں، غیر ملکی سفارت کاروں، کاروباری  نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔