اسلام آباد،7 جون ( اے پی پی): آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس نمبر 1 (2026ء) پر اپنی رائے دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی 12 نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مہاجر نشستوں کی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ان نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئینی تبدیلی کا راستہ منتخب اسمبلی، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقۂ کار سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ سڑکوں پر احتجاج فیصلہ کن قوت نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہی ریاستی نظام کی بنیاد ہے۔
عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جائیں۔ عدالت کے مطابق آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور احتجاج یا سیاسی تنازعات انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح کرتے ہوئے اسمبلی کے اختیارات اور مدت کو بھی واضح کیا اور قرار دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دھونس اور معمولاتِ زندگی میں خلل آئینی تحفظ کے دائرے میں نہیں آتے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا اور انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد مزید مضبوط کر دی ہے اور حکومت کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے کہ آئینی مسائل کا حل صرف آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے امن و استحکام کے تحفظ کے مؤقف کو مزید تقویت فراہم کی ہے۔











