اسلام آباد، 18جون(اے پی پی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ مستحق خواتین کے لیے متعارف کرایا گیا نیا ڈیجیٹل والٹ نظام ادائیگیوں کو مزید آسان، محفوظ اور شفاف بنائے گا اور طویل قطاروں، غیر ضروری سفر اور ادائیگیوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ کرے گا۔
وہ جمعرات کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ون لنک اور پارٹنر بینکوں کے درمیان انٹرآپریبل ادائیگی نظام کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ون لنک، حبیب بینک لمیٹڈ، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک، ایزی پیسہ، جاز کیش اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت بی آئی ایس پی کے ادائیگی نظام میں ایک بنیادی اور انقلابی تبدیلی کا آغاز ہے، جس کے ذریعے مستحق خواتین کو ملک گیر بینکاری نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایات کے مطابق مستحق افراد کو عزت اور وقار کے ساتھ مالی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور آج یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت مستحق خواتین اپنے ڈیجیٹل والٹ میں موصول ہونے والی رقوم پاکستان میں کسی بھی مقام سے کسی بھی پارٹنر بینک کے قریبی ریٹیلر کے ذریعے حاصل کر سکیں گی، جبکہ بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں مرحلہ وار ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ یہ اقدام ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کے لیے سہولت، مالی خودمختاری اور مالی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور خواتین کو اپنی مالی معاونت پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔
انہوں نے متعلقہ اداروں اور بینکوں کے نمائندوں پر زور دیا کہ مستحق خواتین کے اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کی بروقت فعالیت، مؤثر آگاہی، سہولت کاری اور بینک ایجنٹس کی مناسب تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس موقع پر ون لنک اور تمام پارٹنر بینکوں کے تعاون کو بھی سراہا۔











