رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن کا بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم اور ٹیم کو مبارکباد

2

اسلام آباد ،19 جون(اے پی پی ):  رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن نے بجٹ 2026-27 کو ایک تاریخی اور متوازن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تمام طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔

آج قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ ایک تاریخی اقدام ہے اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا بلکہ خطے کو ممکنہ معاشی اور علاقائی عدم استحکام سے بچانے میں بھی مدد ملی۔

ڈاکٹر درشن نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کے باعث پاکستان کا ایک مضبوط اور مثبت تشخص دنیا کے سامنے ابھر کر آیا ہے۔ انہوں نے پوری قوم کو بھی اس تاریخی موقع پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے، تاہم دنیا کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ملک اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عالمی سطح پر امن کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کے اعتراف میں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر درشن نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مائنارٹیز کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، جس پر وہ ملکی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفارش کی کہ ان فنڈز میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ مزید ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے ملازمتوں میں غیر مسلموں کے لیے مختص کوٹے پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اقلیتوں کو مساوی مواقع کی فراہمی ملک کی ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے۔