اسلام آباد، 12 جون ( اے پی پی): صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے 18.7 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کی معاشی استحکام کی کوششوں کو سراہا۔ پائیدار معاشی اور صنعتی ترقی کی جانب مثبت پیش رفت ضروری ہے۔
بجٹ اجلاس میں کاروباری برادری اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے عاطف اکرام شیخ نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور حکومتی معاشی ٹیم کو مسلسل پانچواں وفاقی بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تسلسل معاشی پالیسیوں میں استحکام کی علامت ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں حوصلہ افزا بہتری دیکھی گئی ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 0.7 فیصد رہ گیا ہے جبکہ سرکاری قرضوں کی ادائیگی پر آنے والے اخراجات میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ تمام اشاریے مالیاتی نظم و ضبط کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایف پی سی سی آئی کی کئی اہم تجاویز بجٹ میں شامل کی گئی ہیں، جو ترقی پر مبنی معاشی ماڈل کی جانب جزوی پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہیں۔کاروباری برادری کی جانب سے سراہے گئے اہم اقدامات:ٹیکس ریلیف؛بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کا خاتمہ؛بین الاقوامی بزنس کلاس سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کا خاتمہ؛سپر ٹیکس میں اصلاحات؛50 کروڑ روپے تک آمدنی کے چھ درجوں پر سپر ٹیکس کا خاتمہ؛50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنا، برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کی مکمل معافی؛تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولت؛تنخواہ دار افراد پر عائد سرچارج کا خاتمہ؛تمام ٹیکس سلیبز میں نمایاں کمی؛مخصوص شعبوں کے لیے مراعات؛آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس کی رعایت جون 2029 تک بڑھا دی گئی۔
تعمیراتی شعبے میں فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں 50 فیصد کمی یعنی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد؛فروخت پر 5.5 فیصد سے 2.75 فیصد؛ریٹیل سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن؛سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت رکھنے والے ریٹیلرز کے لیے 1 فیصد فکسڈ سیلز ٹیکس اسکیم؛پی او ایس مشینوں اور معمول کے آڈٹس سے استثنا، گرین کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے؛برآمد کنندگان کے لیے ریلیف؛سابقہ 1 فیصد کم ازکم ٹیکس اور 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کے نظام کی جگہ 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس متعارف کرایا گیاہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ بجٹ میں شامل اقدامات صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور بلند معاشی نمو کے حوالے سے ملے جلے اشارے دیتے ہیں۔
آخر میں، ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایک مضبوط، مسابقتی اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔











