اسلام آباد،02 جون ( اے پی پی): وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی غذائیت، جدت اور دیہی معیشت کے فروغ کے لیے دانشمندانہ اور متوازن ٹیکس پالیسی کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پر اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اجلاس میں حکومت، جامعات، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے مشروبات اور جوس پر ٹیکس کے معاشی، غذائی اور زرعی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر نے کہا کہ ٹیکس صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ پالیسی آلہ ہے جو صارف کے طرزِ عمل اور صحتِ عامہ پر اثر ڈالتا ہے۔ موجودہ یکساں شکر کی مقدار اور غذائی اہمیت کے فرق کو نظر انداز کرتی ہے۔ اس لیے ٹیکس پالیسی کو سائنسی شواہد پر مبنی اور حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ صحتِ عامہ، زراعت کے استحکام، صنعتی مسابقت اور ریونیو کے اہداف ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔ متوازن پالیسی سے یہ سب بیک وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ رانا تنویر حسین کے مطابق جوس انڈسٹری مقامی پھل خرید کر کاشتکاروں، ٹرانسپورٹرز اور دیہی مزدوروں کو روزگار دیتی ہے۔ اس شعبے میں پالیسی استحکام سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے غیر دستاویزی مارکیٹ کے بڑھنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزی صنعت پر زیادہ ٹیکس کا بوجھ صارف کو سستی مگر کم معیار کی مصنوعات کی طرف لے جائے گا جس سے غذائی تحفظ اور قومی محصولات متاثر ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں اب شکر کی مقدار کی بنیاد پر مختلف ٹیکس شرحیں رائج ہیں۔ پاکستان کو بھی کم شکر اور بغیر اضافی شکر والی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ صحت بھی بہتر ہو اور صنعت میں جدت آئے۔ وزیر نے مزید کہا کہ پھلوں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن برآمدات بڑھانے اور بعد از برداشت نقصان کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت صحتِ عامہ، زراعت، صنعت اور مالیاتی پائیداری کے لیے پرعزم ہے۔ کی مشاورت سے سامنے آنے والی تجاویز اصلاحات میں مددگار ثابت ہوں گی۔











