قومی اسمبلی اجلاس سے بلاول بھٹو زرداری کا خطاب — قومی اتفاقِ رائے، معاشی استحکام اور ترقی پر زور

3

اسلام آباد،18 جون( اے پی پی): قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل سیاسی اتفاقِ رائے، جمہوری تسلسل اور ادارہ جاتی تعاون میں مضمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ہمیشہ قومی یکجہتی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا ہے، اور حالیہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وفاق اور صوبے مل کر معاشی و دفاعی استحکام کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور ترقی کے اہداف کے لیے تمام اکائیوں کا کردار اہم ہے اور مشترکہ فیصلوں سے ملک مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے کیونکہ امن ہی سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا، غربت میں کمی لانا اور پسماندہ طبقات کو سہارا دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک مؤثر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سماجی تحفظ کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام لاکھوں خاندانوں کو سہارا فراہم کر رہا ہے اور اس کے دائرہ کار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون سے مالیاتی نظم و نسق اور ترقیاتی منصوبوں میں بہتری آئی ہے، جس سے ملک میں اقتصادی استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے باہمی مشاورت سے فیصلے پاکستان کے مستقبل کے لیے مثبت پیش رفت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زراعت، صنعت، توانائی اور علاقائی ترقی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے ملک کے مختلف حصوں میں روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی یکجہتی اور جمہوری عمل ہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان تمام چیلنجز پر قابو پا کر ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔