قومی اسمبلی: ایم این اے سید طارق حسین کی بجٹ بحث میں شرکت، پیپلز پارٹی کا مؤقف پیش

4

اسلام آباد, جون 14(اے پی پی ): رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کو مالی سمت دینے کا نام ہے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے سید طارق حسین نے کہا کہ وہ پوائنٹ اسکورنگ کے لیے تقریر نہیں کریں گے بلکہ حقائق پر بات کریں گے۔ انہوں نے اسپیکر، وزیر خزانہ، نائب وزیراعظم اور دیگر وزراء کی موجودگی کو سراہا اور کہا کہ پچھلے بجٹ سیشنز میں سننے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، اس بار پوری کابینہ موجود ہے۔

 سید طارق حسین نے کہا کہ گزشتہ سال ایف بی آر کا ہدف 14.131 ٹریلین روپے رکھا گیا تھا جو حاصل نہ ہو سکا اور اسے 12.983 ٹریلین تک ریوائز کیا گیا۔ اس سال 15.264 ٹریلین کا بہت بڑا ہدف رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال سے تقریباً 17 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سے 8 فیصد تو افراط زر میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے لیکن 8 سے 10 فیصد اضافی رقم کہاں سے آئے گی یہ نظر نہیں آتا۔

 سید طارق حسین نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے کھڑے ہیں۔ پی پی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بجٹ کا عام آدمی، مزدور، ہاری، کسان اور نوجوان پر کتنا اثر پڑے گا۔ اگر ان کو بہتری ملتی ہے تو بجٹ بہترین ہے، لیکن اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو بجٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف  کے دور حکومت میں آصف علی زرداری صاحب کو بھی بغیر وجہ گرفتار کیا گیا تھا۔

عالیہ فریال ٹالپر صاحبہ جو بیمار تھیں اور اسپتال میں تھیں ان کو بھی چاند رات پر عید سے ایک دن پہلے گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا۔

سید طارق حسین نے کہا کہ افراط زر بھی 33-34 فیصد آپ ہی کے دور حکومت میں تھا جسے بڑی مشکل سے اب 8 فیصد پر لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ پر بات کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ *گھر چلانے والی عورت کے ہفتے یا مہینے کے چھوٹے سے بجٹ پر کتنا اثر پڑے گا۔