لاہور، 01جون (اے پی پی): محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عبدالکریم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں مجالس اور عزاداری جلوسوں کے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور دیگر سینئر پولیس افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عبدالکریم نے محرم الحرام کو پرامن اور محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام اضلاع میں سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ سٹریٹجک صورتحال کے باعث اس سال محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات مزید حساس اور چیلنجنگ ہیں، لہٰذا کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ملک دشمن عناصر دہشت گردی، شرپسندی اور فرقہ واریت کے ذریعے امن و امان کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم پنجاب پولیس ایسی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ امن کمیٹیوں، مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام، مجالس اور جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر تمام فلیش اور ٹربل پوائنٹس کو قبل از وقت حل کیا جائے۔
عبدالکریم نے ہدایت کی کہ عزاداری جلوسوں کے روٹس، امام بارگاہوں اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کا خود جائزہ لیا جائے جبکہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تجاوزات کے خاتمے، سڑکوں کی مرمت، سٹریٹ لائٹس اور دیگر انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عشرہ محرم کے دوران پنجاب پولیس کو پاک فوج، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مکمل معاونت حاصل ہوگی اور حساس مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔
آئی جی پنجاب نے سوشل میڈیا پر فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کی روک تھام کے لیے سائبر پٹرولنگ مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور سمیت تمام اضلاع میں طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ مجلس یا جلوس کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے، میٹل ڈیٹیکٹرز اور واک تھرو گیٹس کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے اور تمام اضلاع میں محرم کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فعال رکھے جائیں۔
اجلاس میں محرم الحرام کے دوران آپریشنل، لاجسٹک، ٹریفک، اینٹی رائٹ اور ہیومن ریسورس انتظامات کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ شہریوں کے احساسِ تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز کے ساتھ فلیگ مارچز جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔











