معاشی و سفارتی چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے؛ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

4

 

اسلام آباد،17 جون (اے پی پی): وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر  حسین نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان نے سفارتی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں اور مختلف چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا، اسی جذبے کے ساتھ ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے بھی نمٹنا ہوگا۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر  حسین  کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کردار کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اور یہ حکومت ہی ہے جس نے اہم قومی امور میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج اگر پاکستان آگے بڑھ رہا ہے تو اس پیش رفت کا اعتراف کیا جانا چاہیے ان کے مطابق قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے ایوان میں ہونے والی تقاریر اور تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری عمل کا حصہ ہے کہ اختلافِ رائے سامنے آئے، تاہم ضروری ہے کہ قومی مفاد اور مثبت پیش رفت کو بھی تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایوان میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے، لیکن اصل مقصد ملک کی بہتری ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی اسی طرح قومی یکجہتی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جس طرح دیگر قومی معاملات پر اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر  حسین نے اراکین کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ بحث کے دوران حکومت پر تنقید بھی کی گئی، تاہم جمہوری نظام میں تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت اقدامات اور کامیابیوں کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایک رکن کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان میں آتے ہیں اور تمام اراکین کو ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی اختلافات اور تلخیوں کے باوجود جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے سب کو مکالمے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف ادوار کے دوران سیاسی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی بات کی۔

رانا تنویر کا نے سیاسی حالات اور احتجاجی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے وقتاً فوقتاً مذاکرات اور نظام کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل راستہ یہی ہے کہ اختلافات کے باوجود سیاسی قوتیں نظام کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے مستقبل میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔

رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ایکایسا خودکار اور شفاف نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے عوامی سطح پر شکایات اور بے ضابطگیوں میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ جدید نظام کے نفاذ سے سرکاری اداروں کے امور مزید شفاف ہوں گے اور فیصلے خودکار طریقے سے بہتر انداز میں کیے جا سکیں گے، جس سے انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

 قومی مالیاتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئےان کا کہنا تھا  کہ یہ ایک اہم آئینی اور مالیاتی فریم ورک ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں موجود کمزوریوں اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ  این ایف سی ایوارڈ ایک متفقہ نظام کے تحت طے پاتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبوں اور اتحادی اکائیوں کے خدشات اور ضروریات کو وقتاً فوقتاً دیکھنا اور نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔


وفاقی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ  زرعی شعبے کی بہتری کے لیے حکومت ایک جامع حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے جس میں سبسڈی کے نظام کی اصلاح، کوآپریٹو فارمنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک، خصوصاً انڈیا، اپنے زرعی شعبے کو بڑے پیمانے پر سبسڈائز کرتے ہیں، جس کے مقابلے میں پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں کو مؤثر بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت ایسے ماڈلز پر کام کر رہی ہے جس میں چھوٹے کاشتکاروں کو اکٹھا کر کے کوآپریٹو سسٹم کے تحت زرعی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر کسانوں کے گروپس پانچ یا چار ایکڑ کے چھوٹے رقبوں کو ملا کر مشترکہ کاشتکاری کریں تو اس سے پیداوار اور لاگت دونوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ویلیو ایڈیشن اور فوڈ پروسیسنگ کے لیے پروسیسنگ پلانٹس کے قیام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے سافٹ لونز سمیت طویل المدتی مالی سہولتیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جن میں نیشنل ایگریکلچر پروگرام اور کمانڈ ایریا کی بہتری شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت چین اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے ساتھ زرعی تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کانٹریکٹ فارمنگ، سلاٹر ہاؤسز اور دیگر زرعی منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے اس شعبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔