اسلام آباد ، 4 جون (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت کی مجموعی ترقی اور نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے نفاذ کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف اور مختلف شعبوں میں ٹیرف اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی فعال اور شفاف کارکردگی ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے کمیشن کو اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دنیا میں رائج بہترین طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی، بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، کے استعمال سے نیشنل ٹیرف کمیشن میں جدت لائی جائے۔
اجلاس کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے نفاذ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت مختلف شعبوں کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جس کا مقصد برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاجسٹکس کے شعبے کی ترقی اور فروغ کے لیے ریفر کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر عائد ڈیوٹیز ختم کی جائیں گی، جبکہ تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے اسپیشلائزڈ گاڑیوں اور مشینری پر کسٹمز ڈیوٹیز میں کمی کی جا رہی ہے۔
فارماسیوٹیکل شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خام مال، خصوصاً کینسر کی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔











