ویمن یونیورسٹی ملتان میں عالمی یومِ ماحولیات 2026 کی شاندار تقریب، طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ

2

ملتان، 04 جون (اے پی پی):  ویمن یونیورسٹی ملتان میں عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے سلسلے میں ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں اس سال کے عالمی یومِ ماحولیات کے تھیم’’موسمیاتی عمل‘‘ کے تحت ’’ آج عمل کریں، کل کی تشکیل کریں، ہمیشہ کے لیے حفاظت کریں ‘‘  کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ سیمینار کی مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول تھیں، جبکہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر شائزا جابین، ڈاکٹر وزیر احمد (ایسوسی ایٹ پروفیسر، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد) اور شائما شامل تھیں۔ فیکلٹی ممبران، طالبات اور مختلف شعبہ جات کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

سیمینار کے موقع پر ماحول دوست سرگرمیوں کے فروغ کے لیے آن لائن پوسٹر مقابلہ، جدید پراجیکٹ ماڈلز کی نمائش، گملہ سازی کا مقابلہ اور پرندوں کے گھونسلہ سازی کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جن میں طالبات نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال سے متعلق عملی اور جدت پر مبنی خیالات پیش کیے۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی شعور اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ماحولیاتی آگاہی پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم آج اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور بہتر دنیا فراہم کر سکیں گے۔انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ ماحول کے تحفظ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، درخت لگائیں، پانی اور توانائی کے ضیاع سے بچیں اور پلاسٹک کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی کریں۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے ایک پودا بھی لگایا اور بوٹنی اسٹوڈیو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طالبات کی عملی سرگرمیوں اور سائنسی تربیت کو سراہا۔ انہوں نے مختلف اسٹالز کا معائنہ بھی کیا اور طالبات کے تیار کردہ ماحولیاتی ماڈلز کی تعریف کی طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے پراجیکٹس میں انرجی ایفیشنٹ سمارٹ سٹی ماڈل، رین ڈیٹیکٹر سسٹم، کاربن ابزوربر، ایئر پیوریفیکیشن سسٹم، ہائیڈروپونکس پر مبنی زرعی ماڈل اور نیچر ریسٹوریشن پروجیکٹ شامل تھے، جو ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے ان کی تخلیقی سوچ اور عملی مہارت کا مظہر تھے۔دیگر مقررین نے اپنے مختصر خطابات میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں شدت اختیار کر رہے ہیں جن میں درجہ حرارت میں اضافہ، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر فرد کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ زمین کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔ مقررین نے طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے ماحولیاتی ماڈلز اور تخلیقی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ہی ماحول دوست مستقبل کی حقیقی معمار ہے۔مقابلہ جات کے نتائج کے مطابق پوسٹر مقابلے میں پہلی پوزیشن فوزیہ منیر (ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا ، ویمن یونیورسٹی ملتان) نے حاصل کی، دوسری پوزیشن یوراج عرشاد (ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد) جبکہ تیسری پوزیشن طاہرہ فاطمہ (ڈیپارٹمنٹ آف انوائرنمنٹل سائنسز، ویمن یونیورسٹی ملتان) نے حاصل کی۔ماڈل مقابلے میں پہلی پوزیشن علیحہ بابر اور امنہ سجاد (پاک عرب سکول ملتان) نے حاصل کی۔ دوسری پوزیشن امارہ نواز، کنول اعجاز، سیدہ اسرا بتول، سماویہ اکرم، مومنا شفیق، ہادیہ بنت اعجاز اور وجیہہ عمر (ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ماس گورننس، ویمن یونیورسٹی ملتان) نے حاصل کی۔ تیسری پوزیشن (A) عبدالرزاق شاہ جبکہ تیسری پوزیشن (B) وانیہ ملک اور مصفرہ نور (پاک عرب سکول ملتان) نے حاصل کی۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے جبکہ شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔