پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے، مصطفیٰ کمال

7

اسلام آباد،01 جون (اے پی پی): وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تیرہ اہم بیماریوں کے خلاف پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے اپنی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہی، جس میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی جنیوا میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے تناظر میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں اور شراکت داریوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں عملی شکل دی جائے۔ اجلاس میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انڈونیشیا کے ساتھ ویکسین سازی کے شعبے میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔

اجلاس میں گاوی کے تحت ویکسین پروگراموں کی مستقبل کی فنڈنگ پر بھی غور کیا گیا جبکہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس کے ذریعے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں  وفاقی سیکرٹری صحت، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔