اسلام آباد،1جون (اے پی پی):پاکستان اور یورپی یونین نے پیر کے روز یہاں منعقدہ آٹھویں پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو ایک جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی/نائب صدر یورپی کمیشن کاجا کالس کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس مذاکراتی عمل کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ ترین ادارہ جاتی فورم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساتواں جائزہ اجلاس نومبر میں برسلز میں منعقد ہوا تھا جو دونوں فریقوں کے درمیان اس نوعیت کے روابط کی تاریخ میں سب سے کم وقفے کے بعد ہونے والا اجلاس تھا۔دونوں فریقوں نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت تعاون پر پیشرفت کا جائزہ لیا جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی، ہجرت اور نقل و حرکت، نیز سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبے شامل ہیں۔
محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعاون کو دونوں فریقوں کے لئے سود مند قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔
نائب وزیرِاعظم محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جن میں امریکہ-ایران تنازعہ، جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال، افغانستان، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ شامل تھے۔محمد اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہنے اور معاون کردار ادا کرنے پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس تنازعہ کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے کے بعد درست ثابت ہوا جس میں واضح کیا گیا کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے آبی کنٹرول کی صلاحیت پر بنیادی حدود عائد کرتا ہے۔سلامتی کے امور پر محمد اسحاق ڈار نے افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے عناصر کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف ان کے مسلسل حملوں پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔اپنے خطاب میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے پاکستان کو ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔
کاجا کالس نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے مکمل جنگ کے خدشے کو ٹالنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ایک پائیدار اور پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے عوام اور اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت، نقل و حرکت اور عوامی روابط، بالخصوص ایراسمس منڈس سکالرشپ پروگرام کے ذریعے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔











