پاکستان میں ٹرانسپورٹ ،سیاحت اور تجارت کیلئے تاریخی فیصلہ؛ مانسہرہ سے چلاس تک 172 کلومیٹر طویل نئی موٹروے کی منظوری

5

 

اسلام آباد، 4 جون (اے پی پی): پاکستان میں ٹرانسپورٹ، سیاحت، روزگار کے مواقع اور تجارت کے شعبوں میں انقلابی بہتری لانے کے لیے ایک اور تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت مانسہرہ سے کاغان اور چلاس تک 172 کلومیٹر طویل اسٹیٹ آف دی آرٹ موٹروے کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں، جس کی صدارت وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے کی، اس میگا پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر علیم خان نے مانسہرہ سے شروع ہو کر کاغان، ناران، جھل کھنڈ اور بابوسر ٹاپ سے گزر کر چلاس تک جانے والی اس نئی موٹروے کی تعمیر کی حتمی منظوری دی۔

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق اس موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی، جس کی تعمیر سے مانسہرہ سے کاغان اور چلاس کے درمیان کا فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔ اس عظیم الشان منصوبے کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا؛ پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تک موٹروے بنائی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں بابوسر ٹاپ سے چلاس تک کا ٹکڑا تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی خاصیت 13.5 کلومیٹر طویل “بابوسر ٹنل” (سرنگ) کی تعمیر ہے، جو کہ مکمل ہونے پر پاکستان کی سب سے لمبی سرنگ کا اعزاز حاصل کرے گی۔

یہ شاندار موٹروے منصوبہ سی پیک ) اور علاقائی روابط کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ مغربی چین کو براہِ راست کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے منسلک کر دے گا۔

معاشی و تعمیری امور کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ نئی شاہراہ بحیرہ عرب سے مغربی چین تک پہنچنے کا تیز ترین، مختصر ترین اور کم لاگت والا راستہ ثابت ہوگی، جس سے مال بردار گاڑیوں اور سامان کی ترسیل کے وقت میں غیر معمولی بچت ہوگی۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اپنی جدید ترین سفری سہولیات کے باعث یہ موٹروے جہاں مقامی سیاحت اور روزگار کو فروغ دے گی، وہاں قومی ترقی، علاقائی رابطوں اور ملکی اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم اور قابلِ تعریف قدم ثابت ہوگی۔