اسلام آباد، 4 جون (اے پی پی): گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک کے قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے اہم اور انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں غیر ملکی سیاحت اور سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے خوبصورت پہاڑ، دلفریب ساحل اور منفرد قدرتی مناظر عالمی سطح پر سیاحت اور سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق، گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت گزشتہ 3 سال سے سیاحتی شعبے کی بحالی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے محض 18 ماہ کے مختصر عرصے میں 78 اہم سیاحتی مقامات کے تجارتی معاہدے طے پائے، جن میں سے 17 میں سے 15 ہوٹل اور تفریحی مقامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کر کے سیاحوں کے لیے کھولا جا چکا ہے۔
ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے شروع کی گئی “سلام پاکستان” مہم کے ذریعے پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مواقع کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ سال 2024ء سے ‘پائیدار سیاحت فورم’ کے باقاعدہ انعقاد کی بدولت ملک میں سیاحت اور سرمایہ کاری کے نت نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے بیرونی سیاحوں کی حوصلہ افزائی کے لیے دنیا کے 126 ممالک سے آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ویزا کے حصول کو انتہائی آسان اور سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔
انہی مثبت کوششوں کے نتیجے میں سال 2025ء میں نامور امریکی نشریاتی ادارے “سی این این” (CNN) نے پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان کو دنیا کے سرفہرست 25 بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025ء کے دوران پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح تشریف لائے، جو کہ گزشتہ برسوں کے تقابل میں 820 فیصد کا ایک تاریخی اور غیر معمولی اضافہ ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، ‘گرین ٹورزم پاکستان’ کے بینر تلے سرکاری اور نجی شعبےکے باہمی تعاون سے سیاحتی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جو آنے والے وقت میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔











