اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا ابتدائی سفارت کاری اور اقوامِ متحدہ کے نظامِ ثالثی کو مزید مضبوط بنانے پر زور

14

اقوامِ متحدہ، یکم جون ) اے پی پی): پاکستان نے کہا ہے کہ تنازعات کا پُرامن حل اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ثالثی کو بحرانوں کے انتظام کا ذریعہ نہیں بلکہ تنازعات کی روک تھام کے لیے رہنما اصول بنایا جانا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایجنڈا آئٹم 31(ب) ‘‘تنازعات کے پُرامن حل، تنازعات کی روک تھام اور ان کے تصفیے میں ثالثی کے کردار کو مضبوط بنانا ’’پر عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن کے لیے ہمارے عزم کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم تنازعات پھوٹ پڑنے کے بعد ان کی مذمت کیسے کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں ابتدا ہی میں روکنے کے لیے کتنے فعال اور پیشگی اقدامات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی محاذ آرائی اور امن کے درمیان ایک پل ہے۔ یہ سفارت کاری کو اس کے اعلیٰ مقصد کی تکمیل کا موقع فراہم کرتی ہے تاکہ طاقت کی جگہ دلیل، خاموشی کی جگہ مکالمہ اور انسانی مصائب کی جگہ انصاف لے سکے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات اُس وقت جنم لیتے ہیں جب سفارت کاری میں تاخیر کی جائے، مکالمے کے راستے کو ترک کر دیا جائے اور اختلافات کو حل کیے بغیر بڑھنے دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی اولین ذمہ داری صرف تنازعات کے پھوٹ پڑنے کے بعد ان پر ردِعمل دینا نہیں بلکہ انہیں اس سے پہلے روکنا بھی ہے کہ وہ انسانی جانوں، خطوں اور نسلوں کو تباہ کر دیں۔

سفیر عاصم نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا حوالہ دیا، جسے پاکستان نے پیش کیا تھا اور جو جولائی 2025ء میں متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب ششم کی مرکزی اہمیت کی توثیق کی، ثالثی اور نیک خدمات  کے مؤثر استعمال کی حوصلہ افزائی کی، اور تنازعات کے پُرامن حل میں اقوامِ متحدہ، علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی یقین ہمیشہ پاکستان کے سفارتی طرزِ عمل کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں پاکستان نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی جانب واپسی کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ایک دوست ہمسایہ، خلیجی ممالک کے ایک برادر شراکت دار اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات رکھنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک پائیدار حل کی تلاش میں مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پُرامن حل، ان کی روک تھام اور تصفیے کے لیے مشترکہ عالمی کوششوں میں ثالثی کے اصول کی حمایت جاری رکھے گا۔