اورلینڈو ،5 جولائی ( اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹرز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ اپنی جدید طبی مہارت، ٹیکنالوجی اور تجربہ وطن منتقل کر کے پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں وہ اورلینڈو، امریکہ میں “اپنا کنونشن 2026” سے خطاب کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ اوورسیز ڈاکٹرز پاکستان میں اے آئی پر مبنی ہیلتھ کیئر سلوشنز کے فروغ میں معاونت کریں۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز کو ملکی نظامِ صحت سے جوڑنے کے لیے انقلابی ٹیلی میڈیسن ماڈل کا بھی ذکر کیا۔ اس ماڈل کے تحت پاکستان کے 60 اضلاع میں امریکی ماہرینِ صحت پر مشتمل بیک اپ پینل قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ہر ضلع میں 10 امریکی ماہر ڈاکٹرز دور دراز علاقوں کے جونیئر ڈاکٹرز کو بیک اینڈ سپورٹ فراہم کریں گے تاکہ وہ امریکی اسپیشلسٹس سے براہِ راست مشاورت کر سکیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو صحت، خواندگی اور آبادی کے شعبوں میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، ٹی بی، پولیو اور بچوں میں غذائی کمی قومی چیلنجز ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے اور تمام وزرائے اعلیٰ اس کے رکن ہوں گے۔ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا پروگرام جاری ہے جبکہ ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگائی تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے اور شرح سود میں کمی سے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی “اڑان پاکستان” حکمت عملی کا مرکز برآمدات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کی برآمدات 40 ارب ڈالر ہیں جبکہ ویتنام کی 450 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے آگے لے جانا قومی ہدف ہے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات بڑھانے میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا۔ سیاسی احتجاج حق ہے مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا کا کوئی جمہوری ملک سیاسی ایجنڈوں کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹرز علم، جدت اور اصلاحات کے ذریعے وطن کی خدمت جاری رکھیں۔











