پاک ایران ریلوے تعاون: سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ کا عزم، ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن اسی مالی سال شروع کرنے پر اتفاق

0

اسلام آباد۔ 22 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مؤمنی نے ملاقات کی ہے جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں، باہمی تجارت کے فروغ اور علاقائی رابطہ کاری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بدھ کو ہونے والی اس اہم ملاقات میں پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی شریک تھے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایرانی وزیرِ داخلہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور ملاقات کو دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

 وفاقی وزیر نے حالیہ بحران کے دوران ایرانی قوم، حکومت اور قیادت کے عزم، استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت اور بحران میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کو عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام، باہمی تعاون اور سفارتی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات کے دوران ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ مین لائن-3 (ML-3) پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے، جس کی اپ گریڈیشن سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور علاقائی روابط کو نمایاں فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن پر اسی مالی سال میں کام شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ یہ منصوبہ دسمبر 2029 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر نے زاہدان۔تفتان ریلوے سیکشن کی بحالی کے لیے ایرانی حکومت اور ایرانی ریلوے کے اقدامات اور تعاون کو سراہا اور بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن قرار دے دیا گیا ہے، جس سے سرحد پار مال برداری اور شَنٹنگ آپریشنز میں مزید سہولت حاصل ہوگی۔

ملاقات میں اسلام آباد۔تہران۔استنبول (ITI) فریٹ ٹرین سروس کی بحالی اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ دونوں فریقین نے 1959 کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025 کے فریم ورک آف کوآپریشن کے تحت ریلوے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے، تجارت، سرحدی رابطوں اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو اس کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔