بچوں کا آن لائن تحفظ: 5 بڑے ممالک میں سوشل میڈیا پر سخت پابندیاں

2

اسلام آباد،13 جولائی (اے پی پی):بچوں کی اخلاقی تربیت سمیت ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات نے دنیا بھر کو متحرک کر دیا ہے۔

عالمی جریدہ رائٹرز کے مطابق دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کو ضابطے میں لانے والے ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

سکائی نیوز کے مطابق آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ 16 سال سے کم عمر صارفین کو بلاک نہ کرنے پر آسٹریلوی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین کے سائبر اسپیس ریگولیٹر نے “مائنر موڈ” پروگرام کے تحت ڈیوائس کی سطح پر پابندیاں اور ایپ کے مخصوص قوانین نافذ کر دیے ہیں۔

انڈونیشیا نے تقریباً 70 ملین بچوں کے متاثر ہونے کے پیش نظر 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔

برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو قانونی سرپرست سے لنک کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ٹی آر ٹی کے مطابق ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرتے ہوئے مؤثر عمر کی تصدیق کو لازمی قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف ممالک کا سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں بھی عالمی طرز پر آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔