اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ او آئی سی خواتین کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے پہلے ہی ایک مضبوط بنیاد رکھ چکی ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وعدوں اور عزم کو عملی پیش رفت میں تبدیل کریں۔پاکستان بچیوں کی تعلیم، خواتین کی کاروباری صلاحیتوں میں اضافہ اور ان کو جدید ڈیجیٹل تعلیم کی فراہمی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ہمارا یقین ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا کسی بھی قوم کی جانب سے کی جانے والی دانشمندانہ سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نویں وزارتی اجلاس کے موقع پر منعقدہ ثقافتی شام اور عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ ایسے معاشرے تشکیل دیے جائیں جہاں ہر خاتون کو اپنی قوم کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنایا جائے۔انہوں نے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، او آئی سی سیکرٹریٹ اور کانفرنس میں شریک خواتین مندوبین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد اعلامیے سمیت کانفرنس کے نتائج پر مبنی دستاویزات کو حتمی شکل دینے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف معاشرے کے ایک طبقے کی ترقی کا نام نہیں بلکہ اس مضبوط بنیاد کو مستحکم کرنا ہے جس پر ہر قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ جب ہم ایک خاتون پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو درحقیقت ہم آنے والی نسلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے اسلام نے خواتین کے مقام و مرتبے کو بلند کیا اور ایسے اصول قائم کیے جو آج بھی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی تعلیمات اور اپنے عملی نمونے کے ذریعے خواتین کے وقار کو بلند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے تعلیم، جائیداد، وراثت، کاروبار اور معاشرتی زندگی میں شرکت کے حقوق کی توثیق فرمائی جن کی ضمانت پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے اور قومی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شرکت کو یقینی بناتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ آج مجھے اس بات پر بے حد فخر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی خواتین قومی تعمیر و ترقی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور اپنے عظیم وطن کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں ۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والے تبادلہ خیال سے باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا ، ایک دوسرے کے تجربات کے تبادلے کو فروغ ملے گا اور ایسے بامعنی نتائج سامنے آئیں گے جن سے او آئی سی کے رکن ممالک مستفید ہوں گے۔











