اسلام آباد، 20 جولائی (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں اہم درآمدی انٹری پوائنٹس پر بارڈر سیکیورٹی، خام مال کی کھپت کے ذریعے مبینہ ٹیکس چوری اور سینیٹ ایمپلائز ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹی کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود اور سینیٹر عمر فاروق نے شرکت کی جبکہ سینیٹر دلاور خان بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمباکو پر ٹیکس کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جا چکی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں ٹیکس سے مستثنیٰ درآمدات کا ڈیٹا ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل میں پیش کر دیا جائے گا۔
کمیٹی نے ٹیکس سے مستثنیٰ درآمدی خام مال کی قیمت اور جاری کردہ کھپت (Consumption) سرٹیفکیٹس کے درمیان نمایاں تفاوت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ گھی جیسے اعلیٰ قدر والے شعبوں میں ٹیکس لیکیج کی مکمل چھان بین کرے، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرے اور مبینہ طور پر چوری شدہ ریونیو کی وصولی یقینی بنائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مسترد شدہ کھپت کے سرٹیفکیٹس سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی آئینی عدالت میں اس کیس کی موثر پیروی کرے اور 10 روز کے اندر جامع رپورٹ جمع کرائے۔
علاوہ ازیں، کمیٹی نے سینیٹ ایمپلائز ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازمین کو پلاٹوں کا قبضہ نہ ملنے اور سوسائٹی کا انتظام پرائیویٹ افراد کے پاس ہونے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سوسائٹی کی سابقہ انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو ایک ہفتے کے اندر موجودہ انتظامیہ کی صورتحال پر تازہ رپورٹ پیش کرنے اور سوسائٹی کو غیر قانونی طور پر چلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی تاکہ سوسائٹی کا کنٹرول سینیٹ کے جائز ملازمین کو منتقل کیا جا سکے۔











