ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی سمیت شفافیت کو فروغ ملے گا،وزیراعظم شہباز شریف

0

اسلام آباد،14 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم شہباز  شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔

 کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے  گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی کیش لیس معیشت میں تبدیل کرنے کی پیش رفت پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کی ستائش کی اور  ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے QR کوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافہ کرنے پر معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے مرچنٹس کو QR کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہونا  اہم کامیابی ہے، بینک اور مالیاتی ادارے کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جائے۔

وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔

اجلاس میں کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 تک ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں موصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافہ سے 20 لاکھ، 3 ہزار ہو چکی ہے جبکہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹائز ہو چکی ہیں اور کیش ادائیگیاں 71 فیصد سے کم ہو کر صرف1 فیصد پر آ چکی ہیں۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ صارفین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ  سے کی جا رہیں ہیں، اس وقت موبائل بینکنگ ایپ صارفین کی تعداد 13 کروڑ، 70 لاکھ ہے۔ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب  ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ریکارڈ کی گئیں ہیں۔

بریفنگ  میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران ترسیلات زر کی 92 فیصد رقوم ڈیجیٹل طریقے سے موصول ہوئی ہیں، کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے اور حتمی رپورٹ بمع سفارشات نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے ممبر بینکوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں بشمول RAAST نظام کے فروغ کیلئے اہداف دیئے ہیں۔