اقوام متحدہ، نیویارک، 14 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات اور پاکستان و یو این ڈی پی کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے یو این ڈی پی کے ساتھ پاکستان کی مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا اور قومی ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل میں ادارے کے مسلسل تعاون کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی “اڑان پاکستان” پروگرام پر مبنی ہے، جس کی بنیاد پانچ ترجیحی ستونوں پر رکھی گئی ہے جن میں برآمدات، ڈیجیٹلائزیشن، ماحولیات، توانائی اور مساوات شامل ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ یو این ڈی پی کے دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ایس ڈی جی سپورٹ یونٹس کے ذریعے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کو مقامی سطح تک منتقل کرنے اور 2025 کے ایس ڈی جیز پالیسی ڈائیلاگ فار ایکشن کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ملاقات میں پاکستان کے “ایس ڈی جی پلس پروگرام” پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد صوبائی سطح پر زیادہ مؤثر شمولیت اور مقامی اقدامات کے ذریعے پائیدار ترقیاتی اہداف کے نفاذ میں تیزی لانا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایس ڈی جیز کے اہداف کو مقامی برادریوں تک پہنچانے کے لیے صوبائی سطح پر عمل درآمد کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر کو آگاہ کیا کہ قومی اقتصادی کونسل نے اہم سماجی اشاریوں پر صوبوں کی کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ انسانی ترقی سےمتعلق متعدد شعبے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں۔ الیگزینڈر ڈی کرو نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مؤثر نفاذ کے لیے پاکستان کی ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا اور پاکستان کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے ترقیاتی اہداف کو قرضوں کی ادائیگی اور محدود مالی گنجائش جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یو این ڈی پی پاکستان کے لیے ترقیاتی اور موسمیاتی مالی وسائل کی فراہمی، خصوصاً ایس ڈی جیز سے ہم آہنگ سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں، کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس کے انعقاد اور ریزیلینٹ ریکوری، ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ریکنسٹرکشن فریم ورک (RF4) پر عمل درآمد میں یو این ڈی پی کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF) سے نمٹنے کے منصوبوں، غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان کے آبادیاتی و روزگار سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے مالی مشکلات کے باوجود پاکستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے پر یو این ڈی پی کی تعریف کی، تاہم انہوں نے ادارے کی بنیادی فنڈنگ میں نمایاں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی نظام میں جاری اصلاحات سے ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان، کے لیے معاونت میں اضافہ ہونا چاہیے، نہ کہ کمی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یو این ڈی پی کے بنیادی ترقیاتی مینڈیٹ کو مضبوط رکھا جائے اور ملک کی سطح پر تعاون کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے ناروے کے ولی عہد، جو یو این ڈی پی کے گڈ وِل ایمبیسیڈر بھی ہیں، کے آئندہ دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔
پروفیسر احسن اقبال نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے الیگزینڈر ڈی کرو کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ملک کے اندر اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کی سطح پر باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔











