مون سون کے دوران سانس، جلد اور معدے کے امراض بڑھ جاتے ہیں، احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں: ڈاکٹر عبدالجبار بھٹو

5

اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): پولی کلینک کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر عبدالجبار بھٹو نے کہا ہے کہ مون سون کے موسم میں سانس کی بیماریوں، جلد اور آنکھوں کے مسائل، معدے کی بیماریوں اور پانی سے پھیلنے والے امراض میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ بزرگ، خواتین، بچے اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مون سون کا موسم عموماً جون سے ستمبر تک رہتا ہے اور اس دوران سانس کے انفیکشن، جلدی امراض اور دیگر موسمی بیماریوں کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کا پانی جمع ہونے سے بجلی کے کرنٹ لگنے، عمارتوں کے حادثات اور بچوں کے ڈوبنے جیسے خطرات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالجبار بھٹو نے کہا کہ مون سون کے دوران آلودہ پانی اور غیر محفوظ خوراک کے استعمال سے معدے اور آنتوں کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، اس لیے ہاتھوں کی صفائی، صاف پانی کے استعمال اور پھلوں و سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر کھانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پولی کلینک میں روزانہ اوسطاً چار سے پانچ ہزار مریضوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں اور موسمی بیماریوں کے دوران مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی بستروں، ادویات، تشخیصی سہولیات اور آئسولیشن وارڈز کا انتظام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولی کلینک میں بیشتر ادویات اور طبی سہولیات مریضوں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں اور مون سون کے دوران پانی کی کمی اور معدے کی بیماریوں کے علاج کے لیے ضروری ادویات و طبی سامان کا مناسب ذخیرہ رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالجبار بھٹو نے زور دیا کہ شہری صحت مند طرز زندگی اپنائیں، متوازن غذا استعمال کریں، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور معمولی بیماریوں کے لیے اپنے قریبی بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریوں سے رجوع کریں تاکہ بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم ہو اور شدید نوعیت کے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔