اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی نے شرکت کی اور ملک میں ذہنی صحت کی موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی۔
وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیمی نظام میں مؤثر انداز سے ضم کیا جائے تاکہ ذہنی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور فوری علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عوامی سطح پر ذہنی صحت کے فروغ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے تعاون سے قومی ذہنی صحت ڈیٹا ڈیش بورڈ کے قیام اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ساتھ مل کر جامع پالیسی مرتب کرنے پر زور دیا۔
مصطفیٰ کمال نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ذہنی صحت سے متعلق لازمی سرٹیفکیشن اور ڈپلومہ پروگرام متعارف کرانے اور وزارت کے تحت قائم تمام ٹیلی میڈیسن مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات شامل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے جوائنٹ سیکرٹری (ہسپتال) اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری و نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی خصوصی تربیت، قانونی و قواعدی اصلاحات اور نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی کی تیاری کے لیے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیرِ صحت نے ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کی تیاریوں میں تیزی لانے اور عوامی آگاہی مہم کو مؤثر بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شواہد پر مبنی اور ہر فرد کی دسترس میں ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔











