اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ، اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے سینٹر برائے صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کے قیام کے لیے منعقدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کیا۔
یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، کراچی کے درمیان طے پائی۔ یہ منصوبہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی سرپرستی میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد پاکستان کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ سینٹر برائے صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا قیام پاکستان کی صنعتی ترقی میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی صنعتی پالیسی کے تحت صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کا قیام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مرکز جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور عملی تحقیق کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتے ہوئے پاکستان میں صنعتی جدیدکاری کے عمل کو تیز کرے گا۔ اس اقدام سے صنعتی پیداوار، مصنوعات کے معیار اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بھی مزید مضبوط ہوگی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کے صنعتی شعبے کو جدید عالمی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط اشتراک ہی جدید، علم پر مبنی معیشت کی بنیاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرکز انجینئرز، محققین، اختراع کاروں اور صنعتکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا، جبکہ جدت، تکنیکی مہارت اور افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ جدید مینوفیکچرنگ مشینری اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز سے لیس یہ مرکز پاکستان کو صنعتی مصنوعی ذہانت اور تھری ڈی مینوفیکچرنگ کی عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
یہ مرکز پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے کراچی کے کورنگی کریک انڈسٹریل پارک میں قائم کیا جائے گا، جہاں یہ کامن فیسلٹی اینڈ ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔ مرکز صنعتی مصنوعی ذہانت کے حل، جدید مینوفیکچرنگ معاونت، تحقیق و ترقی، تکنیکی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرام ایک پائیدار آپریشنل ماڈل کے تحت فراہم کرے گا۔
مفاہمتی یادداشت پر چیف ایگزیکٹو آفیسر، پی آئی ڈی سی، جناب رضوان احمد بھٹی، رجسٹرار نیوٹیک، بریگیڈیئر سلمان ظفر (ریٹائرڈ)، اور وائس چانسلر این ای ڈی یو ای ٹی، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے دستخط کیے۔ اس اشتراکی فریم ورک کے تحت پی آئی ڈی سی مرکز کے قیام اور انتظام کی ذمہ داری ادا کرے گا، جبکہ نیوٹیک اور این ای ڈی یو ای ٹی تحقیق، اختراع اور تکنیکی مہارت فراہم کریں گے، جس سے صنعت، تحقیق اور جامعات کے درمیان ایک مؤثر اشتراکی نظام قائم ہوگا۔
ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور صنعتی تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سینٹر برائے صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے ساتھ تعاون کا ایک مثالی نمونہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سینٹر برائے صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا قیام پاکستان کی صنعتی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو پائیدار معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور ملک کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ معیار کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔











