اسلام آباد، 7 جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی صدارت منگل کو یہاں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کئی اہم ترین قومی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ وفاقی کابینہ نے تاریخ میں پہلی بار آئندہ چار سالوں کے لیے نئی حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ روایتی ایک سالہ پالیسیوں کے برعکس اس طویل مدتی حج پالیسی کا مقصد آپریشنز میں بہتری، طویل مدتی پلاننگ اور عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت شہری سالانہ رجسٹریشن کے بجائے 2030 تک کسی بھی سال کے لیے بلاتعطل رجسٹریشن کروا سکیں گے، جس سے ایک ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب ہوگی۔ اس کے علاوہ شرعی اصولوں کے مطابق ایک حج سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حج کے پورے نظام بشمول ادائیگیوں، شکایات اور نگرانی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری و پرائیویٹ کوٹہ مختص کرنے کے ساتھ ساتھ لانگ اور شارٹ حج پروگرام، حجاج کی تربیت اور تکافل کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ کابینہ نے رواں برس بہترین انتظامات پر وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کی تعریف کی اور ہدایت کی کہ معاونین حج کا تقرر خالصتاً میرٹ پر کیا جائے اور سرکاری و پرائیویٹ حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر اور ریجنل بلڈ سینٹر کی سروسز کو قواعد و ضوابط کے مطابق آؤٹ سورس کرنے کی بھی منظوری دی، جس کے بعد وزارت قومی صحت اس پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
وزیرِ ریلوے کی جانب سے کابینہ کو پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ریلوے کی آمدن مالی سال 2024-25 میں 95 ارب روپے سے بڑھ کر گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ 24.19 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کارکردگی میں فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ میں 6 ارب سے زائد جبکہ مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدن میں 3.37 فیصد اضافہ شامل ہے۔ کابینہ نے ریلوے آپریشنز اور فریٹ کارگو میں بہتری لانے پر وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ اجلاس کے آخر میں وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 19 مئی 2026 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 جولائی 2026 کو منعقدہ اجلاسوں کے فیصلوں کی باقاعدہ توثیق بھی کی۔











