استنبول،4جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو توانائی، آبی ذخائر،زراعت،خصوصی اقتصادی زونز،کانکنی ومعدنیات،انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی باہمی اعتماد، احترام اور وقار پر مبنی دوستی کو موثر اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو یہاں پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے،بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں ترکیہ سمیت دوست ملکوں کی حمایت ہمیشہ یاد رہے گی،پاکستان کے موثر سفارتی کردار اور دوست ملکوں کی حمایت سے خطے میں امن قائم ہوا ہے،اب ضروری ہے کہ امن کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں –
اس موقع پر ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے ہیں،علاقائی اور عالمی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا انتہائی تعمیری کردار ہے،دونوں ممالک کے درمیان آٹو موبیل،زرعی صنعت،فوڈ پروسیسنگ،طبی آلات،قابل تجدید توانائی ،صحت، گرین ٹیکنالوجیز، آئی ٹی، ای کامرس، تعلیم، سیاحت،شپ بلڈنگ،دفاعی صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام بہتری کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں،پاکستان میں ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں،ترسیلی نظام کی ڈیجٹلائزیشن پر کام ہو رہا ہے،بجلی کے نظام میں بہتری لا کر نقصانات میں کمی لائی گئی ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں،ملک میں گیس اور تیل کی طلب ملکی پیداوار سے کہیں ذیادہ ہے،معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،تیل اور گیس ،کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں ترکیہ کے کاروباری افراد کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں 26 ہزار آئی ٹی ٹیکنالوجی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد بہت بڑی ہے، وزیراعظم کیش لیس معیشت اور ایک گورنس کے فروغ میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں،ملک میں خصوصی ٹیکنالوجی زونز قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، زر مبادلہ کے ذخائر گزشتہ تین سال کی نسبت سب سے زیادہ ہیں،ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے معیشت کو ڈیجیٹائز کر رہے ہیں ہم خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں، ریگولیٹر کو مضبوط بنایا جا رہا ہے رہے،پاکستان میں 9 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہین جن کی نجکاری کی جا رہی ہے، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی پہلے مرحلے میں نجکاری ہو رہی ہے ،پبلک پرائیویٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بھی مختلف منصوبے ہیں،جن میں سکھر حیدرآباد موٹر وے کے 57 اور 64 کلومیٹر کے دو سیکشنز ہیں، دوسرا کراچی اور حیدرآباد کے درمیان 68 کلومیٹر کا منصوبہ ہے۔سکھر سے حیدرآباد اور کراچی سے حیدرآباد موٹرویز کو بی او ٹی کی بنیاد پر بنایا جائے گا،اسلام آباد کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کو دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح سرمایہ کاری کا فروغ اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہے،انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں پانچ سو بستروں کے جدید ہسپتال پر کام ہو رہا ہے یہ 100 ملین ڈالر کا منصوبہ ہے اس کے علاوہ ہم اسلام آباد میں 5 سٹار ہوٹلز تعمیر کر رہے ہیں یہ تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل پہ دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صنعتی سفر کے دو اہم حصے ہیں خصوصی اقتصادی زونز پہ کام ہو رہا ہے وہاں لگنے والی صنعتوں کے پلانٹس اور مشینری پر نو سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کاروباری شعبے میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔
ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کا برادر ملک ہے، پاکستان اور ترکیہ دو ملک اور ایک قوم ہیں،دونوں ممالک کے درمیان قیادت اور عوام کی سطح پر انتہائی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم ایک ارب 20 سے 30 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے ،اس میں اضافے کی بڑی گنجائش ہے،مختلف شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں،پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے،ہم نے دو طرفہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔











