یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کے امکانات کو مزید معدوم کر رہی ہے، پاکستان

3

اقوام متحدہ، 9 جولائی(اے پی پی): پاکستان نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں لڑائی میں حالیہ شدید اضافہ اور جنگ کے دائرۂ کار میں توسیع نہ صرف متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے بلکہ فریقین کے درمیان فاصلے، عدم اعتماد اور کشیدگی کو بھی بڑھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش سکڑ رہی ہے اور امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تنازع نے جس خطرناک اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے، اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کا بہترین راستہ فوجی ذرائع کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری میں مزید سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ واضح طور پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم ایک بار پھر فوری اور مکمل جنگ بندی اور سنجیدہ و بامعنی مذاکرات کی بلا تاخیر بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے اندر اور باہر، جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی بارہا کی جانے والی اپیلیں اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔