پاکستان، ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

5

اسلام آباد، 11 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ترکیہ کے اعلیٰ سطحی تکنیکی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ترکیہ کے وفد کے دورہ پاکستان کا مقصد صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ وفد پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کی صلاحیتوں اور امکانات کا بھی جائزہ لے گا جبکہ صحت کے شعبے میں موجود تجربات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرے گا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ترکیہ کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات دیرینہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان شعبہ صحت میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صحت کے شعبے میں خود انحصاری اور نظام کی پائیداری کے وسیع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے مؤثر پیش رفت جاری ہے اور پہلی بار نیشنل ویکسین پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور تمام ویکسین بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، حکومت یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے، جس میں 51 فیصد لاگت پاکستان خود برداشت کرتا ہے جبکہ 49 فیصد لاگت بین الاقوامی ادارے برداشت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سال 2030 تک بیرونی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، جبکہ بعض معاونتی پروگراموں کے حوالے سے 2031 تک بھی عالمی معاونت ختم ہونے کی توقع ہے، اس صورتحال میں پاکستان کو ویکسین کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہوگی، جس کا تخمینہ سالانہ 1.2 ارب امریکی ڈالر ہے۔ لہٰذا مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا بندوبست ناگزیر ہو چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے انڈونیشیا کی بائیو فارما کمپنی کے ساتھ معاہدے کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) میں 90 فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور آئندہ سال اپریل 2027 میں ڈریپ عالمی ادارہ صحت کا لیول تھری حاصل کر لے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی مریض کا یونیورسل میڈیکل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایک منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ہر شہری کا شناختی کارڈ ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہوگا۔