اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نا سمجھا جائے، ہم خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں، پوری دنیا تک معرکہ حق کا پیغام پہنچ چکا ہے، کسی نے بھول کر بھی پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا تو اس سے زیادہ طاقت سے منہ توڑ جواب دیں گے ۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کی شب قومی اتحاد وحدت ،یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم مصمم کی علامت یادگار فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگار فتح کا افتتاح کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یادگار فتح ہمارے عزم و ہمت، مسلح افواج کی مہارت اور برتری کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی پر صمیم قلب سے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی پر فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکا غرور خاک میں ملا دیا ۔ یہ معرکہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان کی قیادت میں افواج کا کردار لائق تحسین ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم امن کے لئے عزت اور وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ معرکہ حق میں کامیابی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ 2025 کے معرکے کا پیغام پوری دنیا میں پہنچ چکا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اس معرکے نے پاکستان کے وقار میں ایسا اضافہ کیا ہے جسکی عصر حاضر کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرکے خود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ پانی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بھارت اگر راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہ راست جواب دیں گے ۔
وزیر اعظم نے نئی نسل کو ترقی کے نئے مواقع کی فراہمی کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔ نئی نسل کیلئے ترقی کے دروازے کھولنا ہیں۔ انسانی وسائل کو ترقی دیکر ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تبدیلی وہ ہے جو سیاست اور معیشت کے میدان میں آرہی ہے اور ایک آئی ٹی اور اے آئی نے پیدا کی ہے۔نئی دنیا میں جینے کے طور طریقے بھی نئے ہیں۔ آج کی دنیا میں وہ قوم زندہ رہے گی جو اے آئی اور آئی ٹی کیساتھ جینے کا ہنر جانتی ہو گی۔ ان تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے۔ ہم تنازعات کو اقوام متحدہ کے اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
اسی جذبے سے پاکستان نے ایران-امریکہ جنگ کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل کا تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا ۔حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے لئے امن کی نوید اور دنیا میں استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ ہم انکے حق خود ارادیت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی اور پائیدار امن کیلئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے ۔ کشمیر پر ہمارا دو ٹوک مؤقف ہے ۔ ہم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں ہم امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن افغانستان کی سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال ناقابل برداشت ہے۔ افغان قیادت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی پناہ گاہ بننے سے فی الفور روکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور چٹان سے زیادہ مضبوط ہے۔ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے کردار کو لائق تحسین قرار دیا اور کہا کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر، کویت ، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سے ہمارے تعلقات پھلتے پھولتے رہیں گے۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ جنگ کی طرح امن کے وقت میں بھی قوم اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ اختلافات بھلا کر نفرتوں کو ختم کریں اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اختلاف راہ حق ہے لیکن اسے دشمنی میں بدلنے سے قومی طاقت کمزوری میں بدل جاتی ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ آج قوم اپنے فرائض دیانتداری محنت اور لگن سے ادا کرنے کا عہد کرے۔ انہوں نے کہا کہ یادگار فتح کے بظاہر ساکت نظر آنے والے ستون قوم کے جذبۂ تعمیر کی ترجمانی کرتے ہیں ۔یہ جذبۂ تعمیر آج سب چہروں پر بھی نظر آرہا ہے اور ہمارے روشن مستقبل کی نوید ہے۔











