چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا لاہور سینٹرل زونل آفس کا دورہ، آپریشنل امور پر بریفنگ

3

اسلام آباد۔24اگست  (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے لاہور میں بی آئی ایس پی کے سینٹرل زونل آفس کا دورہ کیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب نصیر الدین سرور نے انہیں بی آئی ایس پی کے آپریشنل امور، ادائیگیوں اور جاری سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر بی آئی ایس پی نے خواتین بینیفشریز کو رقوم کی ادائیگی شفاف، آسان اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد خواتین بینیفشریز کے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ انٹرآپریبلٹی کے ذریعے مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت، مجاز بینک کے کسی بھی ایجنٹ سے اپنی رقم وصول کر سکیں گی۔ اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے پر بینیفشریز کو میسج کے ذریعے ادائیگی کی اطلاع اور رقم کی تفصیل موصول ہوگی، خواتین اپنا شناختی کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر بتا کر مجاز ایجنٹ سے رقم وصول کر سکیں گی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کا عملہ خود فراہم کردہ سمز پر ڈیجیٹل والٹس فعال کرے گا اور سم کے حصول یا بی آئی ایس پی کی کسی بھی اسکیم کے لیے کوئی فیس نہیں ہے جبکہ  ڈیجیٹل والٹ ایکٹیویشن مکمل طور پر مفت ہے، جبکہ رقم نکلوانے کے سروس چارجز 280 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستحق خواتین کی امدادی رقم ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رہے گی، اس لیے اسے فوری طور پر نکلوانا ضروری نہیں خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم وصول کر سکتی ہیں، جبکہ چھ پارٹنر بینکوں کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دستیاب ہوگی۔ انہوں نے مستحق خواتین کو ہدایت کی کہ اپنا موبائل فون یا سم کسی ایجنٹ کے حوالے نہ کریں اور اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھیں۔

چیئرپرسن نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کا تسلسل ہے، جسے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی قیادت میں عملی شکل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں غربت اور محتاجی سے نکلنے کے مواقع فراہم کرتا ہے،مستحق خواتین کو بھکاری کہنا ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سماجی تحفظ کا پروگرام ہے جو دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

ورلڈ بینک کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خاندانوں پر خرچ کیا جانے والا ہر ایک روپیہ مقامی معیشت میں تقریباً 2.34 روپے کی معاشی سرگرمی پیدا کرتا ہے، جس سے مستحق خاندانوں کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سیاسی وابستگی سے بالاتر قومی سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس کا مقصد ملک کے مستحق اور کمزور طبقات کو باعزت اور مؤثر سماجی و مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی کے تدارک کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 8171 بی آئی ایس پی کا واحد سرکاری نمبر ہے، اس کے علاوہ کسی دوسرے نمبر سے موصول ہونے والے پیغام یا رابطے پر اعتماد نہ کیا جائے۔