کابینہ کمیٹی برائے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کا پہلا اجلاس، شناخت شدہ صوبائی اثاثوں کی اے میپ کو منتقلی کا جائزہ

0

لاہور، 17 اگست:( اے پی پی )  وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین شاہ، وزیر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان، صوبائی وزیر برائے سکول ایجوکیشن رانا سکندر حیات اور وزیر آبپاشی محمد کاظم پیرزادہ  اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں  شناخت کردہ سرکاری اثاثوں سے متعلق دستیاب معلومات، ان کی نوعیت اور AMAP

کے انتظام میں منتقلی کے مجوزہ طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری اثاثے عوام کی امانت ہیں اور ان کا مؤثر، شفاف اور پیداواری استعمال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کا مقصد صوبائی اثاثوں کو ایک منظم اور جدید نظام کے تحت لانا ہے تاکہ ان کی حقیقی معاشی اور عوامی افادیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کی مینجمنٹ کو صرف آمدن بڑھانے کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اثاثوں کی قدر، افادیت اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ ہر اثاثے کی نوعیت، موجودہ استعمال، قانونی حیثیت اور معاشی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے بہترین ممکنہ استعمال کا تعین کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام اثاثوں کے معاملے کو ایک ہی نوعیت کا سمجھنے کے بجائے ہر اثاثے کا کیس اس کی انفرادی خصوصیات کے مطابق دیکھا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اثاثے کے بارے میں فیصلہ مکمل معلومات، متعلقہ محکمے کی ضروریات، قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، مالیاتی نظم و ضبط اور شفاف گورننس کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔صوبائی اثاثوں کا مؤثر انتظام بھی اسی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے۔ اے میپ کے ذریعے صوبائی اثاثوں کی مینجمنٹ میں بہتر ریکارڈنگ، مؤثر نگرانی اور شفاف فیصلہ سازی کا نظام وضع کیا جا رہا ہے۔

میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہونے والے سرکاری اثاثوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، تاہم ہر معاملہ مقررہ قوانین، قواعد و ضوابط اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہی آگے بڑھایا جائے گا۔