ہائی کورٹ میں آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہوں گے، غیر ضروری رش سے گریز کیا جائے: چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

5

کوئٹہ 20اگست (اے پی پی ) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا ہے کہ گراس روٹ لیول پر عوام کو ہائی کورٹ سے سہولت کی فراہمی اولین ترجیح ہے، تمام عدالتوں میں زوم لنکس کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ آئندہ ماہ تک سیشن ڈویژن کی سطح پر بھی ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کر دی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ہائی کورٹ کے نئے ججز، چیئرمین سروس ٹریبونل، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز کے اعزاز میں منعقدہ ٹی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس اقبال کاسی، نئے ججز جسٹس عبدالقیوم لہڑی، جسٹس محمد رف عطا، جسٹس اللہ داد روشن، بلوچستان سروس ٹریبونل کے چیئرمین اکبر شاہ، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطا اللہ لانگو، جنرل سیکرٹری سید نجب الدین آغا سمیت دیگر وکلا بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نئے ججز، ایڈووکیٹ جنرل اور سروس ٹریبونل کے چیئرمین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد ان کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوچکا ہے، بار کونسل اور لا کالجز کے ذمہ داران کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ لا کالجز کی بہتری پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے اور لوگوں کو طویل سفر کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ غربت کے باعث بھی بہت سے لوگ ہائی کورٹ آنے سے گریز کرتے ہیں ۔ اسی لیے تمام عدالتوں میں زوم لنک کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی ضلع سے سائل اپنے کیس کی سماعت میں شریک ہوسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ ماہ تک سیشن ڈویژن کی سطح پر بھی ویڈیو لنک کی سہولت دستیاب ہوگی، جس کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر عدالتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت کی کوشش ہے کہ ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولت سینٹر میں تمام ضروری سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ججز پر اعتماد ہے، لوگوں کو اکٹھا کرکے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہوا جاسکتا۔انہوں نے ہائی کورٹ میں غیر ضروری رش سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ ہائی کورٹ میں رش پیدا کرکے سوشل میڈیا پر پیغام چلایا جائے کہ ہائی کورٹ چلو۔ امن و امان کی صورتحال اور جگہ کی کمی کے باعث ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں ، اس حوالے سے وکلا اور عوام کو تعاون کرنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے بعد ہر فرد کو سیکیورٹی کے حوالے سے حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے بھی اس معاملے میں تعاون کی اپیل کی۔انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ بار روم کو ڈیجیٹل لائبریری میں تبدیل کیا جائے جبکہ اس کے متبادل کے طور پر بار روم کے لیے دو کمرے فراہم کیے جائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پورا بلاک بار روم کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے واضح کیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے اور عوام کو عدالتی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں ۔