اسلام آباد، 18 ستمبر(اے پی پی ): کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد بھر میں غیر قانونی قبضوں، تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف جامع اور بلاامتیاز کاروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ان کارروائیوں کے نتیجے میں قیمتی سرکاری اراضی کے وسیع رقبے واگزار کرائے گئے ہیں اور شہر میں منصوبہ بندی کے مطابق ترقیاتی کاموں کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور ہوئی ہیں۔
یہ مہم عوامی املاک کے تحفظ، منصوبہ بندی اور تعمیراتی ضوابط کے نفاذ، سرکاری اراضی کی غیر قانونی کمرشلائزیشن کی روک تھام اور اسلام آباد کی منظور شدہ منصوبوں کے مطابق ترقی کو یقینی بنانے کے لیے سی ڈی اے کے پختہ عزم کی عکاس ہے۔
جاری مہم کی نمایاں کامیابیوں میں 1,400 کنال سے زائد قیمتی اسٹیٹ لینڈ کی بازیابی شامل ہے، جس میں سابقہ مسلم کالونی بھی شامل ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق واگزار کرائی گئی اراضی کی مالیت اربوں روپے ہے۔ یہ کارروائی مقررہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد کی گئی، جبکہ مقامی رہائشیوں کے جائز دعووں کی جانچ کے لیے ایک سائٹ آفس بھی قائم کیا گیا۔
اسی مہم کے ایک اور مرحلے میں سی ڈی اے نے اس سے قبل غیر قانونی قابضین سے 712 کنال سے زائد قیمتی اسٹیٹ لینڈ بھی واگزار کرانے کی اطلاع دی تھی، جس کی مالیت بھی اربوں روپے بتائی گئی۔ غیر مجاز تعمیرات کے خاتمے سے قبل نوٹس جاری کیے گئے اور مطلوبہ قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سیدپور اور نیشنل پارک سے ملحقہ علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں غیر قانونی قبضے سے 320 کنال قیمتی سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔ نیشنل پارک اور سرکاری اراضی کی اصل حدود کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ پر مبنی جیو میپنگ اور ڈیجیٹل نقشوں سے مدد لی گئی۔ واگزار شدہ اراضی کو ماحولیاتی بحالی اور شجرکاری کے لیے مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل سی ڈی اے جی ٹی روڈ، ترنول، اسلام آباد ایکسپریس وے، سری نگر ہائی وے اور دیگر مقامات پر 800 کنال سے زائد اسٹیٹ لینڈ بھی واگزار کرا چکا ہے، جبکہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
عوامی سطح پر رپورٹ ہونے والی ان بڑی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 2,490 کنال سے زائد سرکاری اراضی کی بازیابی شامل ہے۔ اتھارٹی نے الگ الگ مراحل اور مقامات کی تفریق کو مدنظر رکھا ہے تاکہ اراضی کی بازیابی کے اعداد و شمار میں دوہری گنتی سے بچا جا سکے۔
سیکٹر ای-12 میں جاری آپریشن سی ڈی اے کی تجاوزات کے خلاف مہم کی ایک اور اہم کامیابی ہے۔جاری کارروائی کے دوران سی ڈی اے نے ای-12 میں تقریباً 290 کنال سرکاری اراضی واگزار کرا لی ہے، جو غیر قانونی قبضے اور غیر مجاز استعمال میں تھی۔ اس بازیابی کو سیکٹر میں طویل عرصے سے جاری تجاوزات کے مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کے لیے درکار اراضی کی بحالی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔یہ کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کے بعض حصے نجی افراد کی جانب سے غیر مجاز مقاصد، جن میں تجارتی کرایہ داری اور عوامی املاک سے نجی آمدنی حاصل کرنے کی دیگر صورتیں شامل تھیں، کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
سی ڈی اے کی تازہ کارروائی کے نتیجے میں ای-12/2 کے ایک مخصوص مقام پر تقریباً 16 کنال حاصل شدہ سی ڈی اے اراضی بھی واگزار کرائی گئی ہے۔ اس اراضی پر نجی سیکیورٹی گارڈز کے لیے رہائش، ایک ہالیڈے ہوم اور 14 دکانیں قائم تھیں، جنہیں تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دیا جا رہا تھا۔ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور ضروری قانونی و انتظامی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اراضی کا قبضہ سی ڈی اے کو واپس دے دیا گیا اور اس مقام پر ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔
اراضی کی بازیابی سے ای-12 میں بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی بروقت تکمیل میں حائل ایک اہم رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ سی ڈی اے نے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی کاموں اور قانونی الاٹیز کو قبضہ دینے سے متعلق سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے۔ای-12 میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کو رہائشیوں اور الاٹیز کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔ شہریوں نے سرکاری اراضی کی بازیابی اور سیکٹر سے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے سی ڈی اے کی کوششوں کو سراہا ہے۔شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ تجاوزات کے مسلسل خاتمے سے ترقیاتی کام مکمل رفتار سے آگے بڑھ سکیں گے اور سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ ای-12 آپریشن کا مقصد صرف تجاوزات کا خاتمہ نہیں، بلکہ حاصل شدہ اراضی کا تحفظ، منصوبہ بندی کے مطابق اراضی کے استعمال کی بحالی، ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور رہائشیوں و الاٹیز کو بنیادی ڈھانچے اور شہری سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔
مہم اب اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کے ساتھ بھی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے عمارتوں کو سیل کرنے اور قانونی دائرے میں لانے کے لیے جامع کارروائی شروع کی ہے۔اس کارروائی کا مقصد غیر قانونی، غیر مجاز اور منظور شدہ ضوابط سے مطابقت نہ رکھنے والی تعمیرات کو قانونی دائرے میں لانا، بلڈنگ بائی لاز کی پابندی یقینی بنانا، سرکاری واجبات کی وصولی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ سی ڈی اے نے خاص طور پر تعمیراتی نقشوں کی منظوری، ریگولرائزیشن فیس، سرکاری واجبات اور فائر سیفٹی کے تقاضوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔
تجاوزات کے خلاف مہم صرف بڑے پیمانے پر اسٹیٹ لینڈ کی بازیابی تک محدود نہیں۔ سی ڈی اے کا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور میونسپل شعبے بیک وقت غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں، عارضی ڈھانچوں، دکانوں، عارضی ہوٹلوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں، جو عوامی مقامات، گرین بیلٹس اور سڑکوں کے کناروں پر قائم ہیں۔
سی ڈی اے انفورسمنٹ نے تجاوزات کو ہٹا دیا،تجاوزات کرنے والوں کا سامان رکھنے والی چار ٹرالیاں بھی ڈی ایم اے کے اسٹور منتقل کر دی گئیں، جبکہ کلیئر کرائی گئی اراضی کو ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ان مربوط کارروائیوں سے سی ڈی اے کے جامع طریقہ کار کی عکاسی ہوتی ہے، جس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، میونسپل انتظامیہ، بلڈنگ کنٹرول، انوائرمنٹ ونگ، پلاننگ شعبے، ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس شامل ہیں۔
واگزار کرایا جانے والا ہر کنال سرکاری اراضی ایک قیمتی عوامی اثاثہ ہے، جسے نجی قبضے، کرایہ داری یا تجارتی استحصال کے بجائے اس کے قانونی طور پر مقررہ مقصد کے لیے بحال کیا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے واگزار کرائی گئی اراضی پر دوبارہ تجاوزات قائم ہونے سے روکنے کے لیے نگرانی اور مانیٹرنگ کے مؤثر نظام کو بھی مضبوط بنا رہا ہے، جن میں ڈرون نگرانی اور ڈیجیٹل میپنگ/گوگل ارتھ کے ذریعے مانیٹرنگ شامل ہے۔ اتھارٹی کا مقصد صرف قانون کا نفاذ نہیں، بلکہ عوامی اراضی کی بازیابی، منصوبہ بندی کے مطابق اراضی کے استعمال کی بحالی، ترقیاتی کاموں میں تیزی اور قانونی شہریوں و سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔
ای-12 اور دیگر سیکٹرز میں غیر قانونی قبضے کے خاتمے سے سی ڈی اے کو بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کرنے اور قانونی الاٹیز کو قبضہ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ترقیاتی اور قبضہ دینے کے عمل میں پیش رفت کے ساتھ الاٹیز اپنے گھروں کی تعمیر، کاروبار کے قیام اور پیداواری سرمایہ کاری کے قابل ہو سکیں گے۔ اس سے تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، تجارت اور خدمات کے شعبوں میں سرگرمی پیدا ہو گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، سرکاری آمدنی میں اضافہ ہو گا اور اسلام آباد کی مجموعی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔
سی ڈی اے نے اسی مقصد کے تحت پانچ بنیادی نکات پر مشتمل جامع پالیسی اپنائی ہے۔
1۔ عوامی اراضی واگزار کرانا
2۔قانون کا نفاذ یقینی بنانا۔
3۔ دوبارہ تجاوزات کی روک تھام
4۔ ترقیاتی عمل میں تیزی لانا
5۔ قانونی شہریوں اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا
سی ڈی اے اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک، منظم منصوبہ بندی کے حامل، ماحولیاتی طور پر پائیدار اور معاشی طور پر متحرک دارالحکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ قیمتی عوامی اراضی محفوظ رہے اور اسے اسلام آباد کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔











